Urdu book · امن عالم

فتح مبین کا راز

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اپنے آپ کو جانا مگر انہوں نے فطرت کے قانون کو نہیں جانا۔ 1947ء میں یہ مسئلہ بالکل سادہ تھا۔ جیسا کہ الرسالہ میں ایک سے زیادہ بار لکھا جا چکا ہے، اس وقت یہ مسئلہ اپنی فطری حالت میں تھا۔ اس وقت پاکستانی لیڈروں کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ حیدر آباد پر اپنے دعویٰ کو چھوڑ دیں اور اس کے نتیجہ میں پورا کشمیر انہیں حاصل ہو جائے۔ مگر پاکستان کے لیڈر اپنی ناقابل فہم نادانی کی بنا پر ایسا نہ کر سکے اور یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تباہ کن نزاع کے طور پر باقی رہا۔ بنگلہ دیش کی جنگ کے بعد 1971ء میں پاکستان کے 93 ہزار فوجی انڈیا کے قبضہ میں آگئے۔ اس وقت یہ ممکن تھا کہ ان 93 ہزار فوجیوں کو دے کر پاکستان سے کشمیر کے معاملہ کا مستقل تصفیہ کر لیا جائے مگر دوبارہ دونوں ملکوں کی قیادت نا کام رہی اور اس قیمتی موقع کے باوجود کشمیر کا مسئلہ بدستور غیر حل شدہ صورت میں پڑا رہا۔ 2001ء کے آخر میں آگرہ میں کشمیر کے سوال پر دونوں ملکوں کے لیڈروں کی کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ صورت موجودہ (status quo) کو مان کر اس کا تصفیہ کر لیا جائے۔ یعنی کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے قبضہ میں ہے وہ پاکستان کا حصہ بن جائے اور اس کا جو حصہ انڈیا کے زیر انتظام ہے، اس کو انڈیا کا مستقل حصہ مان لیا جائے۔ مگر اس بار بھی دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا اور یہ نزاعی معاملہ پہلے جہاں تھا وہیں اب بھی باقی رہا۔ آخری صورت کے طور پر راقم الحروف نے الرسالہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس معاملہ میں ایک قسم کی ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) اختیار کر لی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کے سیاسی سوال کو دوسرے اہم ترانسانی سوالات سے الگ کر دیا جائے۔ کشمیر کے مسئلہ کو سختی کے ساتھ پرامن بات چیت کی میز پر رکھ دیا جائے اور اس کے سوا جو اہم تر غیر سیاسی معاملات ہیں ان میں پوری طرح نارمل پالیسی اختیار کر لی جائے۔ مثلاً تجارت، تعلیم، آمد و رفت، سیاحت، ثقافتی تعلقات اور دوسرے انسانی معاملات میں اسی طرح معتدل تعلقات قائم کر لیے جائیں جس طرح انڈیا اور نیپال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page