اسلام کے نام پر غیر اسلام
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے نام پر غیر اسلام ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو امریکہ میں رہتے ہیں انھوں نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ آج کل امریکہ میں اسلام کی تصویر اتنی خراب ہوگئی ہے کہ میں اپنے کو مسلمان بتاتے ہوئے گھبراتا ہوں۔ کوئی مجھ سے میرا مذہب پوچھتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں مذہب انسانیت کو مانتا ہوں اگر میں اپنا مذہب اسلام بتاؤں تو وہ فورا کہے گا ۔ پھر تو تم ایک دہشت گرد ہو۔ Then you must be a terrorist انھوں نے کہا کہ اسلام کی یہ تصویر جدید میڈیا نے بنائی ہے ۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ بلکہ اسلام کی یہ تصویر خود مسلمانوں نے بنائی ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان جگہ جگہ اسلام کے نام پر تشدد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ اسی کو میڈیا کے لوگ رپورٹ کرتے ہیں۔ مسلمان اپنی یہ تحریکیں چونکہ اسلام کے نام پر چلاتے ہیں اس لیے وہ اسلام سے منسوب ہو کر میڈیا میں آتی ہیں۔ جب مسلمان خود اس قسم کی تحریکوں کو اسلام کے نام پر چلا رہا ہے ہوں تو میڈیا ان کو کسی اور نام سے کیسے رپورٹ کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کی متشددانہ تحریکیں صرف کچھ مسلمان چلاتے ہیں، نہ کہ سارے مسلمان ۔ پھر ان کی بنیاد پر سارے مسلمانوں کے بارے میں منفی رائے قائم کرنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ اس قسم کی تحریکیں تھوڑے مسلمان چلاتے ہیں مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ بقیہ مسلمان ان تحریکوں کی کھلی مذمت نہیں کرتے۔ وہ ان کے بارے میں خاموشی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے خود اسلامی اصول کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام کے نام پر نفرت اور تشدد کی ان تحریکوں کو چلانے کے لیے اگر تھوڑے لوگ براہ راست ذمہ دار ہیں تو بقیہ لوگ اس کے بالواسطہ ذمہ دار۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ روش بے حد افسوسناک ہے۔ اسلامی حکومت اور نظام مصطفی اور اسلامی جہاد کے نام پر ایسے افعال کیے جا رہے ہیں جو سراسر اسلام کے خلاف ہیں۔ جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader