امن عالم
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کو خدا کے دین سے قریب کرنے کے بجائے انھیں اس سے دور کر رہے ہیں۔ اس اندوہناک صورت حال کو دیکھ کر ایک شاعر نے بجاطور پر کہا ہے کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہی اسلامی نظام موجودہ زمانہ میں اس قسم کی متشددانہ تحریکیں نظام اسلام یا نظام مصطفی کے نام پر چلائی جا رہی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریکیں اسلام کے نام پر سیاسی لیڈری کرنے کے ہم معنی ہیں۔ سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے تحریکیں چلانا اسلام میں جائز ہی نہیں۔ اسلامی تحریک کا نشانہ فرد کو اسلامائز کرنا ہے، نہ کہ حکومت یا اسٹیٹ کو اسلامائز کرنا۔ صوفیاء کرام نے سیکڑوں سال تک جو کام کیا وہ فرد کو اسلامائز کرنے کا کام تھا۔ یہ کام پرامن طور پر مسلسل جاری رہا، وہ بھی نفرت اور تشدد پھیلانے کا ذریعہ نہ بن سکا۔ صوفیاء کے ذریعہ ہمیشہ امن اور انسانیت کو فروغ حاصل ہوا، جب کہ موجودہ نام نہاد انقلابی تحریکیں برعکس نتیجہ ظاہر کر رہی ہیں۔ اسلام کے ساتھ نفرت اور تشدد کا وابستہ ہونا صرف موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈروں کا پیدا کردہ ہے جنھوں نے خود ساختہ طور پر حکومت واقتدار کو نشانہ بنا کر اپنی تحریکیں چلائیں۔ ان لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کو نفرت اور تشدد کا دین بنا دیا ہے حالانکہ خدا کا بھیجا ہوا اسلام امن اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔ مسلمان خیر خواہ انسانیت ہوتا ہے، نہ کہ فوجدارانسانیت۔ اسلامی جہاد اگر ایک شخص میدان میں کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ پاؤں ہلائے یا اٹھ بیٹھ کرے اور کہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس کے کہنے سے اس کا یہ فعل نماز نہیں بن جائے گا۔ نماز کی کچھ متعین شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ نماز ہے، ورنہ وہ نماز نہیں۔ یہی معاملہ اسلامی جہاد کا ہے۔ جہاد کی کچھ متعین شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کی پابندی کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ اللہ کے نزدیک جہاد ہوگا۔ اور جس عمل میں یہ شرطیں نہ پائی جائیں وہ بے معنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader