Urdu book · امن عالم

یرغمال بنانا

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ ممالک چونکہ ان غیر سیاسی شعبوں میں دوسری قوموں سے پچھڑے ہوئے ہیں اس لیے عالمی نقشہ میں ان کا کوئی مقام نہیں۔ ان کے عوام بھی تک زیادہ ترغیر تعلیم یافتہ ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی میں وہ ابھی تک مغربی ملکوں کے محتاج ہیں۔ جدید معیار کے اعتبار سے انھیں اقتصادی ترقی حاصل نہیں۔ بظاہر سیاسی اقتدار کا مالک ہونے کے باوجود وہ زندگی کے تمام جدید شعبوں میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں حدیث کے مطابق، صرف ید سفلی (لینے والا ہاتھ) بنے ہوئے ہیں (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 5355)۔ آزادی کے باوجود وہ عملاً محکومی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ مزید چشم کشا مثال یہ ہے کہ بہت سے مسلم ملک ہیں جہاں ان کے دعویٰ کے مطابق مفروضہ اسلامی انقلاب آچکا ہے ۔ مثلاً مصر، پاکستان، ایران، الجرائر، سوڈان، افغانستان، وغیرہ۔ مگر اصل مسئلہ کی نسبت سے یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی انہیں سنگین مسائل کا شکار ہیں، جن کا شکار دوسرے مسلم ممالک ہیں، جن کو سیکولر کہا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ علمی اور اقتصادی شعبوں میں یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی اتنا ہی پچھڑے ہوئے ہیں جتنا کہ دوسرے سیکولر مسلم ممالک ۔ اس لیے آج کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ان غیر سیاسی شعبوں میں آگے بڑھایا جائے ۔ اور بلاشبہ یہ سب غیر سیاسی کام ہیں، ان کا سیاست اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ مزید یہ کہ ان غیر سیاسی کاموں میں عمل کرنا خالص امن کے دائرہ میں ممکن ہے۔ ان میدانوں میں متحرک ہونے کے لیے نہ نفرت پھیلانے کی ضرورت ہے اور نہ تشدد بھڑکانے کی۔ یہ سارے مثبت نوعیت کے کام ہیں، ان کا منفی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page