یرغمال بنانا
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
کے نام نہاد مفکرین نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی تحریک سیاست کی تحریک بن گئی۔ اور پھر غلط طور پر اسلام کے ساتھ وہ تمام نامحمود چیزیں جڑ گئیں جو صرف سیاست اور سیاسی تحریک کا حصہ ہیں۔ دعوت اپنے فطری مزاج کی بنا پر فریقِ ثانی کو اپنے امکانی دوست کے روپ میں دیکھتی ہے۔ سیاست کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اہل سیاست اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر فریقِ ثانی کو اپنے حریف اور دشمن کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دعوتی عمل سے رحمت کلچر وجود میں آتا ہے، اور سیاسی عمل سے صرف نفرت کلچر۔ جس سماج میں رحمت کلچر ہو وہاں ہر قسم کی اچھائیاں فروغ پائیں گی، اور جہاں نفرت کلچر ظہور میں آئے وہاں ہر قسم کی برائی اور تشدد کھلے گا۔ نفرت کے ساتھ بھی کوئی خوبی کی چیز جمع نہیں ہوسکتی۔ کرنے کا اصل کام حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے موجودہ قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی یا تشدد نہ صرف یہ کہ غیر اسلامی ہے، بلکہ وہ انتہائی حد تک بے فائدہ بھی ہے۔ قریبی ماضی کی تاریخ اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، بیسویں صدی کے نصف اول میں بیشتر مسلم ممالک مغربی طاقتوں کے زیرِ اقتدار تھے، خواہ براہِ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں۔ آج یہ تمام مسلم ممالک سیاسی طور پر آزاد ہیں۔ ان ملکوں کی تعداد تقریباً 60 تک پہنچ چکی ہے۔ گنتی کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے۔ اس کے باوجود عالمی سیاسی نقشہ پر مسلمانوں کا کوئی وزن نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی اقتدار کی حیثیت ثانوی بن گئی ہے۔ اب تعلیم اور سائنس اور ٹکنالوجی اور اقتصادیات کی اہمیت ہے۔ صرف سیاسی طور پر آزاد ہونا آج کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader