Urdu book · امن عالم

دشمن اور مقاتل کا فرق

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

دشمن اور مُقاتل کا فرق قرآن کی سورہ فصلت میں ایک طرف حکم دیا گیا ہے کہ ایک شخص اگر بظاہر تمہارا دشمن ہو تب بھی تم اس کے ساتھ احسن طریق پر معاملہ کرو، عین ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے (41:34)۔ دوسری طرف قرآن کی سورہ الممتحنہ میں ارشاد ہوا ہے کہ جن لوگوں نے تم سے قتال نہیں کیا ان سے تم کو بھلائی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ مگر اللہ اس سے روکتا ہے کہ تم ان لوگوں سے بھلائی کے ساتھ معاملہ کرو جوتمہارے ساتھ قتال کر رہے ہیں (60:8)۔ ان دونوں آیتوں کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن عدو (enemy) اور مُقاتل (combatant) کے درمیان فرق کرتا ہے۔ قرآن کا حکم یہ ہے کہ بظاہر اگر کوئی شخص یا گروہ تمہارا دشمن ہو تب بھی تم کو اس کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا چاہیے تاکہ دعوت کا عمل معتدل انداز میں جاری رہے۔ ظاہری دشمنی کا اختلاط (interaction) میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے کیوں کہ اختلاط سے دعوت کا عمل جاری رہتا ہے اور دعوت کا عمل دشمن کو بھی دوست بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ البتہ مُحارب یا مُقاتل (combatant) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عملاً اور یک طرفہ طور پر اہل ایمان کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ ہنگامی اصول یا جنگی اخلاقیات کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ ان کے ساتھ اس وقت تک قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے جب تک وہ جنگ سے باز نہ آئیں۔ یہ ایک بے حد اہم فرق ہے جس کو عملی زندگی میں اختیار کرنا ضروری ہے۔ اہل ایمان اگر اس فرق کو نہ سمجھیں تو وہ دشمن سے بھی مُقاتل جیسا معاملہ کرنے لگیں گے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کے دعوتی مصالح مجروح ہوں گے اور دعوت و تبلیغ کا مطلوب عمل رک جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ جو شخص یا گروہ بالفعل مسلح جنگ چھیڑ دے اس کے مقابلہ میں تو سخت احتیاط کا برتاؤ کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ معتدل تعلق سے بھی پرہیز کیا جائے گا۔ کیوں کہ یہ اندیشہ ہے کہ اس کے ذریعہ مُقاتل فریق اہل ایمان کے جنگی راز معلوم کر لے۔ مگر جہاں تک عام انسان کا تعلق ہے تو ظاہری دوستی یا ظاہری دشمنی کا لحاظ کیے بغیر ہر ایک سے یکساں انسانی تعلق رکھا جائے گا۔ تا کہ اسلام کا دعوتی عمل غیر منقطع طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page