Urdu book · امن عالم

دشمن اور مقاتل کا فرق

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

جاری رہے، وہ کسی حال میں رکنے نہ پائے۔ اسلام کی یہ واضح تعلیم ہے کہ حقیقی جنگ (jenuine war) میں بھی مقاتل اور غیر مقاتل کے درمیان فرق کیا جائے۔ یعنی مقاتل پر وار کیا جائے لیکن غیر مقاتل پر ہرگز وار نہ کیا جائے۔ ایسی حالت میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اصول قدیم زمانہ کی جنگ میں ممکن تھا۔ موجودہ زمانہ میں جنگ گولا بارود سے لڑی جاتی ہے اور گولا بارود کی جنگ میں مقاتل اور غیر مقاتل کی تفریق ممکن نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ جنگی اقدام کی صورت میں غیر مقاتل بھی ہلاک ہو جائیں گے تو جنگ ہی نہیں کی جائے گی۔ جنگ نہ کرنا اور جنگ کرکے غیر مقاتل کو ہلاک کرنا— دونوں میں سے پہلی صورت کمتر برائی (lesser evil) کی ہے اور دوسری صورت شدید تر برائی (greater evil) کی۔ اور جب انتخاب کمتر برائی اور شدید تر برائی کے درمیان ہو تو یقینی طور پر کمتر برائی کو لیا جائے گا اور شدید تر برائی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ یہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور یہی شریعت کا تقاضا بھی۔ موجودہ زمانہ میں اگر ایک طرف غیر موافق صورت حال پیدا ہوئی ہے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں غیر مقاتل کی ہلاکت سے پر ہیز عملاً ممکن نہیں۔ تو اسی کے ساتھ خود موجودہ ترقیوں کے نتیجہ میں ایک موافق صورت حال بھی بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہوئی ہے۔ وہ ہے جدید تعمیری امکانات۔ یہ جدید تعمیری امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ جنگ میں جیتنا یا ہارنا دونوں اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک گروہ جنگ جیت کر بھی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسرا گروہ جنگ ہار کر بھی ایسے پر امن ذرائع پا سکتا ہے جن کو استعمال کر کے وہ کسی لڑائی کے بغیر ہی اعلیٰ کامیابی حاصل کرلے۔ اس معاملہ کی ایک مثال جاپان کی جدید تاریخ میں ملتی ہے۔ جاپان کو دوسری عالمی جنگ میں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر اُس نے اپنی تعمیر نو کے لیے دوبارہ جنگی منصوبہ نہیں بنایا۔ بلکہ عملاً مغلوبیت کو قبول کرتے ہوئے پر امن دائرہ میں تعمیر نو کی جدوجہد شروع کر دی۔ یہ منصوبہ اتنا کامیاب ہوا کہ پچیس سال میں جاپان کی تاریخ بدل گئی۔ جاپان کی یہ کامیابی جدید ذرائع کی بنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page