جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
1۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (29:69)۔ یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔ اس آیت میں تلاشِ حق کو جہاد کہا گیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔ 2۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ (49:15)۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔ 3۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52)۔ یعنی غیر مومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پُر امن جدوجہد کرو۔ 4۔ اسی طرح پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23967)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑ کر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طور پر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طور پر کسی جنگ کے میدان میں۔ 5۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نِعْمَ الْجِهَادُ الْحَجُّ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2876)۔ یعنی حج کیا ہی اچھا جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ 6۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader