Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ صحیح ہے کہ اسلام کے دور اول میں کچھ لڑائیاں نظر آتی ہیں۔ مگر ان لڑائیوں کا مقصد عین وہی تھا جس کو اہل علم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں— آخری جنگ تمام جنگوں کو ختم کرنے کے لیے: Last war to end all wars (13/851) پیغمبر اسلام 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ جیسا کہ معلوم ہے، اُس زمانہ میں دنیا میں شہنشاہیت کا نظام قائم تھا۔ یہ نظام ہزاروں سال سے چلا آ رہا تھا۔ اس سیاسی نظام نے انسانی آزادی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بادشاہ کی مرضی واحد فیصلہ گُن طاقت کی حیثیت رکھتی تھی۔ آزادی اور امن کے قیام کے لیے اس جبری نظام کا خاتمہ ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے محدود مدت کے لیے طاقت کا استعمال کیا تا کہ اس نظام کو ختم کر دیا جائے۔ یہ نظام اولاً عرب میں ختم کیا گیا۔ اُس کے بعد اُس زمانہ کے دو سب سے بڑے شہنشاہی نظام رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سے اُن کا ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو کامیابی حاصل ہوئی اور دونوں ایمپائر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔ فرانس کے مؤرخ ہنری پرین (Henry Pyrenne) نے اس قدیم نظام کو مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ اُس نے لکھا ہے کہ اہل اسلام اگر اس مطلق شہنشاہیت کو نہ توڑتے تو دنیا میں کبھی آزادی اور امن کا دور نہ آتا۔ جہاد کیا ہے جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔ جہاد اصلاً پر امن جد و جہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنی نہیں۔ کبھی توسیعی استعمال کے طور پر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنی الفاظ نہیں۔ یہاں اس سلسلہ میں قرآن وحدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کیے جاتے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page