Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

خود اپنے آپ کو ہٹا لیتا ہے۔ اس طرح کسی ٹھہراؤ کے بغیر چشمہ کا سفر برابر جاری رہتا ہے۔ فطرت کا سبق ہے۔ اس طرح فطرتِ عمل کی زبان میں انسان کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ مشکلات سے ٹکرانے کے بجائے مشکلات کو نظر انداز کرو۔ رکاوٹوں کو توڑنے کے بجائے رکاوٹوں سے ہٹ کر اپنا عمل جاری رکھو۔ اس طریقِ عمل کو ایک لفظ میں پازیٹیو سٹیٹس کو انزم (positive status-quoism) کہا جا سکتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اسی پالیسی کو اختیار کیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ ایک ایسا انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے جس میں اتنی کم جانیں ہلاک ہوئیں کہ اُس کو بلاشبہ ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جاسکتا ہے۔ پازیٹیو سٹیٹس کو ازم کی یہ پالیسی موجودہ دنیا میں امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا سب سے بڑا سبب سٹیٹس کو (status quo) کو توڑنے کی کوشش ہے، اور امن کے قیام کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اسٹیٹس کو کو مان کر بقیہ دائرہ میں اپنی تعمیر کی جائے۔ اسلام میں جہاد کا تصور جہاد ایک عربی لفظ ہے۔ اس کے معنی سادہ طور پر کوشش کرنے کے ہیں۔ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے وہ پر امن جد و جہد کے ہم معنی ہے۔ تو وسیع مفہوم کے اعتبار سے جہاد کو جنگ کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر عربی میں جنگ کے لیے اصل لفظ قتال ہے، نہ کہ جہاد۔ موجودہ زمانہ میں جہاد کا لفظ اکثر جنگ اور تشدد کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ میڈیا کے کثرتِ استعمال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھا جانے لگا۔ مثلاً لندن کے انگریزی روزنامہ ٹائمس (The Times) میں ایک آرٹیکل چھپا ہے جس کا عنوان یہ ہے ــ ایک مذہب جو تشدد کی اجازت دیتا ہے : A religion that sanctions violence یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں پیغمبرِ اسلام کو رحمت للعالمین (21:107) کی حیثیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page