اسلام میں جہاد کا تصور
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
سے متعارف کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو دین لائے وہ دنیا کے لیے دین رحمت تھا۔ ایسے دین کی تصویر متشددانہ مذہب کی کیسے بن گئی۔ جواب یہ ہے کہ دو قسم کی غلط فہمیاں اس خلاف واقعہ تصویر کی ذمہ دار ہیں۔ ایک، نظریہ اور عمل میں فرق نہ کرنا۔ دوسرے، استثنا کو عموم کا درجہ دینا۔ 1۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نظریہ کی روشنی میں عمل کو جانچا جاتا ہے، نہ کہ عمل کی روشنی میں نظریہ کو جانچا جانے لگے۔ مثلاً اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اس کی ممبر قوموں کے رویہ کو جانچا جائے گا، نہ یہ کہ ممبر قوموں کی عملی روش کی روشنی میں چارٹر کا مفہوم متعین کیا جائے۔ اسی طرح اس مسئلہ کے علمی مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ مثلاً مسلمانوں کی ایک تعداد ان قبروں کو پوجتی ہے جس میں کسی بزرگ کو کبھی دفن کیا گیا تھا۔ اس کو دیکھ کر بت پرست لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب شرک اور اسلام کے مذہب توحید میں کوئی فرق نہیں۔ فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ ہندو دھرم میں کھڑا کر کے پوجا جاتا ہے اور اسلام دھرم میں لٹا کر پوجا جاتا ہے۔ مگر یہ تقابل درست نہیں۔ کیوں کہ جو مسلمان قبروں کو پوجتے ہیں وہ ان کا ایک انحرافی فعل ہے، اس کا اسلام کی اصل تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی معاملہ جہاد کا ہے۔ جہاد بلاشبہ ایک پرامن عمل ہے۔ لیکن اگر محمود غزنوی اور اورنگ زیب کی متشددانہ کارروائیوں کو اسلامی جہاد بتایا جائے یا موجودہ زمانہ میں جو مسلمان مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں ان کو جہاد کہا جائے تو یہ رائے قائم کرنے کا صحیح طریقہ نہ ہوگا۔ صحیح علمی طریقہ یہ ہے کہ قرآن وسنت کی ثابت شدہ تعلیمات کو اسلامی نظریہ کا ماخذ بنایا جائے اور مسلمانوں کی کارروائیوں کو اس کی روشنی میں جانچا جائے۔ مسلمانوں کا جو عمل اسلام کے نظریہ جہاد پر پورا نہ اترے اُس کو رد کر دیا جائے۔ 2۔ غلط فہمی کا دوسرا سبب استثنائی تعلیم کو عمومی تعلیم کا درجہ دینا ہے۔ قرآن میں تقریباً چھ ہزار آیتیں ہیں۔ ان میں سے بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو جہاد بمعنی قتال سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader