امن عالم
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اسلام کو دل سے قبول نہیں کیا۔ (الحجرات، 49:14) اسلام اور دہشت گردی اگر کوئی شخص کرسچین ٹیررزم کا ٹرم استعمال کرے تو کہنے والا کہے گا کہ تم متضاد ترکیب (contradictory term) استعمال کر رہے ہو۔ کرسچین کا کوئی تعلق ٹیررزم سے نہیں ہے۔ چنانچہ مسیح نے کہا ہے کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو (Love your enemy)۔ کرسچینیٹی کی تعلیمات لو (Love) پر مبنی ہیں۔ ایسی حالت میں کرسچین ٹیررزم کے کوئی معنی نہیں۔ مگر یہ آدھی سچائی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسیح نے کہا کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو، مگر اسی کے ساتھ نیو ٹیسٹمنٹ کی روایت کے مطابق ، مسیح نے یہ بھی کہا کہ یہ نہ سمجھو کہ میں صلح کروانے آیا ہوں بلکہ میں جنگ کروانے آیا ہوں : Do not think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword. (10:34) پھر کیا وجہ ہے کہ مسیح کے اس واضح قول کے باوجود کوئی شخص کرسچین لوگوں پر ٹیررزم کا الزام عائد نہیں کرتا۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ کرسچین لوگ لڑائی نہیں کرتے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی لڑائی کونیشنل انٹرسٹ کے نام پر چلاتے ہیں، نہ کہ مسیحی مذہب کے نام پر۔ مثلاً ہٹلر ایک کرسچین تھا۔ اس نے دوسری عالمی جنگ چھیڑی مگر اس نے اپنی اس جنگ کو مسیحیت کے نام پر نہیں کیا بلکہ جرمن قومیت کے نام پر کیا۔ اسی طرح امریکہ نے ویت نام میں دس سال سے زیادہ مدت تک جنگ کی مگر اس میں بھی اس نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اپنی اس جنگ کو کرسچین وار کہے۔ اس کے برعکس اس نے یہ کہا کہ وہ اس جنگ کو امریکی مفاد کے لیے کر رہا ہے۔ کچھ لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ میڈیا اسلام کو ٹیررزم کا نام دے کر اسلام کو بدنام کرنا چاہتا ہے ۔ مگر میں کہوں گا کہ اس معاملہ میں میڈیا کا قصور نہیں۔ کیوں کہ مسلمان خود اسلام کے نام پر جگہ جگہ تشدد پھیلائے ہوئے ہیں جس کو وہ بطور خود جہاد کا نام دیتے ہیں ۔ ایسی حالت میں میڈیا کا رول اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ مسلمانوں کے قول و عمل کو اُن کے اپنے دعویٰ کے مطابق رپورٹ کرتا ہے۔ مسلمان اگر اپنی جنگ کو اپنی کمیونٹی کے انٹرسٹ کے نام پر لڑی جانے والی جنگ بتائیں تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader