اسلام میں جہاد کا تصور
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ کسی سے تمہاری نزاع قائم ہو تو نزاع کو ٹکڑاؤ تک نہ جانے دو جو آخر کار تشدد بن جاتا ہے ۔ بلکہ نزاع کو مصالحانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دو۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ صلح بہتر ہے (4:128) Reconciliation is the best. اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب کسی سے کسی معاملہ میں نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو اُس کے حل کے لیے مصالحانہ طریقہِ عمل (conciliatory course of action) اختیار کرو، نہ کہ منازعانہ طریقہِ عمل (confrontational course of action)۔ ظاہر ہے کہ اگر اسلام کی اس تعلیم کو اختیار کیا جائے تو نزاع پیدا ہونے کے باوجود تشدد کی نوبت نہیں آئے گی۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے پیغمبر اسلام کا ایک قول بہت زیادہ مددگار ہو سکتا ہے ۔ وہ قول یہ ہے: اِنَّ اللَّهَ ... يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2593) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ پیغمبر اسلام کے اس قول میں فطرت کا نظام بتایا گیا ہے ۔ موجودہ دنیا میں خدا نے فطرت کا جو نظام قائم کیا ہے وہ ایسے اصولوں پر مبنی ہے کہ یہاں کسی مقصد کے حصول کے لیے پُر امن طریقہ زیادہ کارآمد اور نتیجہ خیز ہے۔ اس کے مقابلہ میں پُر تشدد طریقہ تخریب کاری تو کر سکتا ہے مگر وہ کسی مثبت مقصد کے حصول کے لیے نتیجہ خیز نہیں۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمان دونوں ایک چیز نہیں۔ اسلام ایک آئیڈیا لوجی کا نام ہے اور مسلمان اُس گروہ کا نام ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کو اپنے مذہب کے طور پر اختیار کیا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیم سے جانچا جائے گا، نہ یہ کہ مسلمان جو کچھ کریں اُس کو اسلام سمجھ لیا جائے۔ کوئی مسلمان یا مسلمانوں کا کوئی گروہ اگر تشدد کرے تو یہ اُس کا اپنا ذاتی فعل ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کی زبان سے کہا جائے گا کہ اگرچہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں مگر انہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader