عسکری دور سے غیر عسکری دور تک
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈھانچہ توڑ کر پھینک دیا گیا: Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. یہ انقلاب اتنا بڑا تھا کہ وہ اچانک نہیں آسکتا تھا۔ چنانچہ اللہ کی خصوصی مدد سے وہ ایک عمل (process) کے روپ میں جاری ہوا۔ اسلام کے دورِ اول کا یہ انقلاب گویا ایک دھکا تھا جو تاریخ کو دیا گیا۔ اس کے بعد انسانی تاریخ ایک مخصوص رخ پر چل پڑی۔ ساتویں صدی کا یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی کے وسط میں اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہو گیا کہ قدیم طرز کا جبری نظام دوبارہ زمین پر قائم ہو۔ بعد کے زمانہ میں دوبارہ کسی اور ایمپائر کا دنیا میں قائم نہ ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پچھلی چند صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں دنیا میں ایسی ہمہ گیر تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جو کسی نئے ایمپائر کے قیام کی راہ میں فیصلہ کن طور پر رکاوٹ ہیں۔ اب وہ اسباب دنیا میں موجود ہی نہیں جب کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند دوبارہ قدیم طرز کا ایمپائر کھڑا کر سکے۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی ایمپائر کے قیام کے خلاف جو موانع (deterrents) پیدا ہوئے ہیں اُن کو چند مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ 1۔ قدیم زمانہ میں یہ صورت حال تھی کہ جب کوئی بادشاہ فوجی طاقت کے زور پر ایک علاقہ پر قبضہ کر لیتا تھا تو وہاں کے لوگ اُس کو بادشاہ کا فطری حق سمجھ کر اُس کی سیاسی بالادستی کو قبول کر لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک بادشاہ کو صرف دوسرا بادشاہ ختم کر سکتا تھا، نہ کہ عوام۔ مگر موجودہ زمانہ میں جمہوریت اور سیاسی آزادی اور قومی حکومت کے تصورات کے نتیجہ میں رائے عامہ اتنی زیادہ بدل چکی ہے کہ اب کسی بیرونی بادشاہ کو وہ اجتماعی قبولیت (social acceptance) حاصل نہیں ہوتی جو کسی حکومت کے قیام و بقا کے لیے ضروری ہے۔ 2۔ قدیم زمانہ میں اقتصادیات کا انحصار تمام تر زمین پر مبنی ہوتا تھا اور زمین صرف بادشاہ کی ملکیت سمجھی جاتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب نے بے شمار نئے اقتصادی ذرائع پیدا کر دیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader