عسکری دور سے غیر عسکری دور تک
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ یہ نئے ذرائع ہر انسان کے لیے قابل حصول ہیں۔ اس لیے اب عام لوگوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ سیاسی حکمران کے خلاف ایسے آزاد اقتصادی وسائل پالیسیاں جو سیاسی حکمران کے دائرۂ اقتدار کے باہر ہوں۔ اس اقتصادی تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ آج ایسی انقلابی تحریک چلائی جاسکے جس کو روکنا سیاسی حکمران کے لیے ممکن نہ ہو۔ 3۔ اسی طرح ایک چیز وہ ہے جس کو مانع میڈیا (media deterrent) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں میڈیا اور کمیونی کیشن کی ترقی نے یہ صورت حال پیدا کر دی ہے کہ ایک علاقہ میں پیش آنے والا واقعہ فوراً ہی ساری دنیا میں پہنچ جائے۔ تمام دنیا کے لوگ اُس سے پوری طرح باخبر ہو جائیں۔ یہ ایک ایسا چیک (check) ہے جس نے قدیم طرز کے سیاسی ایمپائر کے قیام کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ اب کوئی بادشاہ اپنے اختیارات کا اِس طرح بے خوف استعمال نہیں کر سکتا جو پہلے ممکن ہوا کرتا تھا۔ 4۔ اسی طرح ایک اور چیز وہ ہے جس کو عالمی مانع (universal deterrent) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کے تحفظ کے نام پر قائم ہونے والے ادارے، ایسے مستقل چیک ہیں جن کو کوئی سیاسی حکمران نظر انداز نہیں کر سکتا اور نہ دیر تک اُن کی خلاف ورزی کا تحمل کر سکتا ہے۔ ان عالمی تبدیلیوں کے بعد انسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ قدیم دور اگر عسکری دور تھا تو اب نیا دور غیر عسکری دور ہے۔ قدیم زمانہ میں پر تشدد طریقہ کو کسی بڑی کامیابی کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب پر امن طریقہ (peaceful method) کو مطلق طور پر کامیاب طریقہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ اب کسی مقصد کے حصول کی جد و جہد کو اول سے آخر تک اس طرح چلایا جا سکتا ہے کہ اُس کے کسی بھی مرحلہ میں تشدد کے استعمال کی ضرورت پیش نہ آئے۔ وہ مکمل طور پر پر امن ذرائع کی پابند رہتے ہوئے کامیابی کی آخری منزل تک پہنچ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پر تشدد طریقہ کا ایک خلاف زمانہ عمل (anachronism) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader