امن عالم
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری چیز کے فرق کو سمجھیں ۔ وہ نتیجہ خیز عمل اور بے نتیجہ عمل کے درمیان تمیز کرنا جانیں ۔ وہ یہ جانیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ عملی اقدام سے پہلے سوچنے کے مراحل کی تکمیل ضروری ہوتی ہے۔ عمل کو سوچ کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ سوچ کو عمل کے تابع بنا دیا جائے۔ اس قسم کا باشعور سماج گویا کہ وہ زمین ہے جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فصل اگائی جا سکتی ہے۔ قانون کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سماج کے استثنائی بگاڑ کو جراحی جیسے عمل کے ذریعہ درست کیا جائے ۔ کوئی بھی قانون سماج کی عمومی حالت کی اصلاح کے لیے نہیں ہوتا ۔ جراحی کا عمل جسم کی ایک جزئی بیماری کو شفا دینے کے لیے ہوتا ہے ۔ اگر پورا جسم عمومی طور پر مرض کا شکار ہو جائے تو ایسی حالت میں جراحی کے عمل کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہاں میں اس مسئلہ کے چند بنیادی پہلوؤں کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ پہلو براہِ راست طور پر عوام کی ذہنی تشکیل کے سوال سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بے حد ضروری ہے کہ ان سوالات کا واضح جواب ہمارے ذہن میں ہوتا کہ کسی کنفیوژن کے بغیر ذہنی تشکیل یا شعوری تعمیر کا کام عمل میں لایا جا سکے ۔ مذہبی اختلاف اس سلسلہ میں پہلا نظری مسئلہ وہ ہے جو مذہبی اختلاف سے تعلق رکھتا ہے ۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ بظاہر یہ بتاتا ہے کہ مذاہب کے درمیان واضح اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ مثلاً کسی مذہبی گروہ کا عقیدہ وحدتِ وجود(monism) کے تصور پر قائم ہے اور کسی گروہ کا عقیدہ توحید (monotheism) کے تصور پر قائم ہے ۔ کسی مذہب میں خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) کا تصور ہے اور کسی مذہب میں الہامی سچائی (revealed truth) کا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مذہبی فرق واختلف ہی تمام فرقہ وارانہ نزاعات کی اصل جڑ ہے ۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی صرف اُس وقت پیدا کی جا سکتی ہے جب کہ کسی نہ کسی طرح ان مذہبی اختلافات کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ کچھ انتہا پسند لوگ، اُن کو بلڈ وز کر دو (buldose them all) کی زبان بولتے ہیں ۔ مگر وہ اتنی زیادہ ناقابلِ عمل ہے کہ وہ سرے سے قابلِ تذکرہ ہی نہیں۔ کچھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader