Urdu book · امن عالم

مذہبی اختلاف

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے لوگ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ تمام مذاہب کی تعلیمات ایک ہیں۔ اس دوسرے گروہ میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر بھگوان داس (1958-1869) کا ہے۔ وہ نہایت قابل آدمی تھے۔ انہوں نے تمام بڑے بڑے مذاہب کے لمبے مطالعہ کے بعد ایک کتاب تیار کی جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ تمام مذاہب کی تعلیم ایک ہے۔ یہ کتاب 929 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا نام یہ ہے : Essential Unity Of All Religions منتخب اقتباسات کو لے کر ہر مذہب کو ایک ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مختلف ملکوں کے دستور کو لے اور پھر ہر دستور سے کچھ منتخب دفعات کو جمع کر کے ایک کتاب چھاپے اور اُس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرے کہ ہر ملک کا دستور ایک ہے اور ایک ہی قسم کی دفعات کا مجموعہ ہے۔ اس قسم کا آفاقی دستور کسی مصنف کو تو خوش کر سکتا ہے مگر وہ کسی ایک ملک کے لیے بھی قابلِ قبول نہ ہوگا۔ ہر ملک اس کو شکر یہ کے ساتھ رد کر دے گا۔ یہی معاملہ اتحادِ مذہب کے بارے میں مذکورہ قسم کی کتابوں کا ہے۔ اس قسم کی کتاب اُس کے مرتب کو خوش کر سکتی ہے مگر وہ اہلِ مذاہب کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ میں نے بھی اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ تمام مذاہب کو ایک بتانا واقعہ کے مطابق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں اتنے زیادہ اختلافات ہیں کہ اُن کو ایک ثابت کرنا عملی طور پر ممکن ہی نہیں۔ مثلاً کسی مذہب کا کہنا ہے کہ خدا ایک ہے۔ کوئی مذہب کہتا ہے کہ خدا دو ہیں۔ کوئی مذہب بتاتا ہے کہ خدا تین ہیں اور کسی مذہب کا دعویٰ ہے کہ خداؤں کی تعداد 33 یا 33 کروڑ ہے۔ کسی کے نزدیک خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اُن کی گنتی ہی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں ہر مذہب کی تعلیم کو ایک بتانا ایک ایسا بیان ہے جو کسی خوش فہم کے دماغ میں تو جگہ پاسکتا ہے مگر عملی اور منطقی طور پر اس کو سمجھنا ممکن ہی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page