کلچر کا اختلاف
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ کلچر کے نام پر جو اختلافات سماج میں پائے جاتے ہیں اُن کو یکسر مٹا دیا جائے اور ایسا سماج قائم کیا جائے جس کے اندر کلچرل یونٹی ہو۔ یہ تجویز بھی سراسر غیر عملی ہے۔ کلچر نہ کسی کے بنانے سے بنتا اور نہ کسی کے مٹانے سے مٹ جاتا۔ کلچر ہمیشہ تاریخی عوامل کے تحت لمبی مدت کے درمیان بنتا ہے۔ کسی دفتر میں بیٹھ کر کلچر کا نقشہ نہیں بنایا جا سکتا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی ملکوں میں ایسے نظریہ ساز (ideologue) پیدا ہوئے جنہوں نے قومی اتحاد کے لیے ایک کلچر کا سماج بنانے پر زور دیا۔ مثلاً کناڈا میں اسی نظریہ کے تحت یونی کلچرل ازم کی تحریک چلائی گئی۔ مگر تجربہ نے بتایا کہ یہ قابل عمل نہیں۔ چنانچہ بیس سال کے اندر ہی اندر اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا۔ اب کناڈا میں سرکاری طور پر ملٹی کلچر لزم کے اصول کو اختیار کر لیا گیا ہے اور یونی کلچر لزم کے نظریہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہی معاملہ امریکہ کا ہے۔ امریکہ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکنآئزیشن کی تحریک چلائی گئی۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا۔ مگر لمبی جدوجہد کے بعد معلوم ہوا کہ وحدت کلچر کا یہ نظریہ قابل عمل نہیں۔ چنانچہ اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا اور امریکہ میں بھی ملٹی کلچر لزم کے اصول کو اختیار کر لیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کلچر کا اختلاف دو گروہوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں ہے۔ خود ایک گروہ کے درمیان بھی یہ اختلاف پایا جا سکتا ہے۔ اس داخلی اختلاف کی مثالیں ہر گروہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس لیے مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی لانے کے لیے مذہبی تعلیمات میں تبدیلی ضروری نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اہل مذاہب کے اندر وہ سوچ پیدا کی جائے جس کو جیو اور جینے دو (live and let live) کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس ناکام تجربہ کو اب بھی دہرانا چاہتے ہیں اور اس کا نام انہوں نے سوشل ری انجینئرنگ رکھ دیا ہے: Social re-engineering of Indian Society

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader