Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

حتیٰ کہ بالفرض کسی تدبیر سے تمام مذاہب کے ٹیکسٹ کو ایک ثابت کر دیا جائے تب بھی اختلاف ختم نہ ہوگا۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب میں ہر ایک کا ایک تسلیم شدہ ٹیکسٹ ہے مگر اس ٹیکسٹ کی تعبیر میں دوبارہ اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور ایک مذہبی ٹیکسٹ خود داخلی طور پر کئی مذہبی فرقے (sects) وجود میں لانے کا سبب بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف یا فرق صرف مذہب کی بات نہیں۔ ہماری دنیا پوری کی پوری فرق اور تنوع کے اصول پر قائم ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہمہ گیر ہے کہ کوئی بھی دو چیز یا کوئی بھی دو انسان فرق سے خالی نہیں۔ کسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے: Nature abhors uniformity جب فرق واختلف خود نیچر کا ایک قانون ہو تو مذہب اُس سے مستثنیٰ کیوں کر ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیا کی تمام چیزوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان فرق پایا جاتا ہے اسی طرح مذاہب میں بھی ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہے۔ دوسرے معاملات میں ہم نے فرق کو مٹانے کی ضروری کوشش نہیں کی بلکہ یہ کہہ دیا کہ آؤ ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے: Let us agree to disagree یہی عملی فارمولا ہمیں مذہب کے معاملہ میں بھی اختیار کرنا چاہیے۔ یہاں بھی ہمیں فرق واختلف کے باوجود اتحاد پر زور دینا چاہیے، نہ کہ فرق و اختلاف کے بغیر اتحاد پر۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی اختلافات کا حل صرف ایک ہے اور وہ ہے— ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو: Follow one and respect all کلچر کا اختلاف اس سلسلہ میں دوسرا مسئلہ کلچر کا اختلاف ہے۔ مختلف گروہوں کے درمیان کلچر کا اختلاف ایک حقیقت ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہی اختلاف تمام نزاعات کی جڑ ہیں۔ اُن کے نزدیک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page