امن عالم
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کہوں گا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق ہندو اور مسلمان دونوں سے ہے۔ مثلاً ایک ہندو اگر سومناتھ کے مندر سے عقیدت رکھتا ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اجودھیا کے مندر کا عقیدت مند نہیں ہو سکتا۔ ایک ہندو کے دل میں اگر اپنی ماں کی محبت ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا دل باپ کی محبت سے خالی ہو گا۔ یہی معاملہ مسلمانوں کا بھی ہے۔ مسلمان اگر مکہ اور مدینہ سے قلبی لگاؤ رکھتا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو انڈیا سے قلبی لگاؤ نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی سوچ انسان کی تصغیر (underestmation) ہے۔ کوئی شخص ہندو ہو یا مسلمان دونوں حالتوں میں وہ فطرت کا ایک مظہر ہے اور فطرت نے جو انسان پیدا کیا ہے اُس کے اندر اتنی وسعت موجود ہے کہ وہ بیک وقت کئی محبتوں اور وفاداریوں کو یکساں طور پر اپنے دل میں جگہ دے سکے۔ یہ ایک ایسی فطری حقیقت ہے جس کا تجربہ ہر انسان کر رہا ہے۔ ہر مرد اور عورت خود اپنے ذاتی تجربہ کے تحت اس کو جانتے ہیں۔ اس فطری حقیقت کو ایک مغربی مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— میرے اندر اتنی زیادہ وسعت ہے کہ میں مختلف تضادات کو بیک وقت اپنے اندر جگہ دے سکوں: I am large enough to contain all these contradictions. مذہب اور سیاست فرقہ وارانہ جھگڑوں میں اکثر مذہب کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی سیاسی یا قومی چیز مذہبی ایشو بن جاتی ہے اور پھر تیزی سے لوگوں کے جذبات بھڑک اُٹھتے ہیں جو مختلف فرقوں کے درمیان متشددانہ ٹکراؤ کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس بنا پر بہت سے لوگ خود مذہب کے مخالف بن گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسان کو مذہب کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس لیے مذہب کا خاتمہ کر دینا چاہیے۔ اس کے بغیر سماجی اتحاد ممکن نہیں۔ مگر یہ ایک انتہا پسندی کے جواب میں دوسری انتہا پسندی ہے۔ یہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ سیکولر انتہا پسندی سے کرنا ہے جو نہ تو ممکن ہے اور نہ مفید۔ اصل یہ ہے کہ مذہب بذات خود کوئی مسئلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader