Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں۔ مذہب انسانی زندگی کا ایک صحت مند حصہ ہے۔ جو چیز مسئلہ ہے وہ کچھ مفاد پرست لوگوں کی طرف سے مذہب کا سیاسی ایکسپلاسٹیشن ہے۔ اس لیے اصل کام ایکسپلاسٹیشن کو ختم کرنا ہے، نہ کہ خود مذہب کو۔ مذہب کے دو حصے ہیں ۔ انفرادی اور اجتماعی۔ مذہب کے انفرادی حصہ سے مراد عقیدہ اور عبادت اور اخلاق اور روحانیت کا حصہ ہے۔ اور اجتماعی حصہ سے مراد اُس کے سیاسی اور سماجی احکام ہیں۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ عام حالات میں صرف مذہب کے انفرادی حصہ پر زور دیا جائے۔ ساری توجہ مذہب کی روح زندہ کرنے پر لگائی جائے۔ جہاں تک مذہب کے سماجی اور سیاسی احکام کا معاملہ ہے، اُس کو اُس وقت تک نہ چھیڑا جائے جب تک پورا معاشرہ اُس کے لیے سازگار نہ ہو جائے۔ سماجی اور سیاسی احکام پورے سماج کی اجتماعی رضا مندی سے قائم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے احکام کے معاملہ میں کسی عملی اقدام سے اُس وقت تک بچنا چاہیے جب تک پورے سماج کا اجتماعی ارادہ اُس کی موافقت میں نہ ہو جائے۔ اس معاملہ کو مذہب اور سیاست کے درمیان عملی تفریق کہا جا سکتا ہے۔ یعنی نظری طور پر سیاست کو مذہب کا حصہ مانتے ہوئے عملی حقائق کی بنا پر سیاسی احکام کے عملی نفاذ کو موخر یا ملتوی کر دیا جائے۔ اسی کا نام حکمت ہے۔ اس حکمت کا یہ فائدہ ہے کہ مذہب اور سیاست دونوں کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں۔ مذہب کے تقاضے حال میں، اور سیاست کے تقاضے مستقبل میں۔ اس کے برعکس اگر اس حکمت کو ملحوظ نہ رکھا جائے اور دونوں پہلوؤں کو بیک وقت اُبھاردیا جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مذہبی تقاضے اور سیاسی تقاضے دونوں ہی پورے ہونے سے رہ جائیں گے۔ نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کا فرق کمیونل ہارمنی کا سوال بنیادی طور پر نارتھ انڈیا کا سوال ہے۔ ساؤتھ انڈیا میں آج بھی کمیونل ہارمنی پوری طرح پائی جاتی ہے۔ کمیونل ہارمنی یا نیشنل انٹیگریشن کے نام سے ہم جیسا سماج بنانا چاہتے ہیں وہ سماج بروقت ہی ساؤتھ انڈیا میں موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، فرقہ وارانہ جھگڑوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page