Urdu book · امن عالم

قوم اور قومیت

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس سے دست بردار ہو جائیں ۔ چنانچہ اب یہ تمام لوگ بلا اعلان عملی طور پر اس انتہا پسندانہ نظریہ کو چھوڑ چکے ہیں ۔ یہی معاملہ قومیت کا بھی ہے ۔ مغرب کے کچھ انتہا پسند مفکرین نے قومیت کو توسیع دے کر مکمل مذہب کے روپ میں پیش کیا۔ مگر حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر یہ نظریہ ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ اب عملی طور پر قومیت کا تصور تقریباً اسی فطری معنی میں بولا جاتا ہے جس فطری معنی میں وہ قرآن کے اندر استعمال ہوا تھا۔ بیسویں صدی کے نصفِ اول میں اٹھنے والے مسلم رہنما اس فرق کو سمجھ نہ سکے ۔ انہوں نے قومیت اور وطنیت کے معاملہ میں اس غیر فطری انتہا پسندی کو اصل سمجھ لیا اور اس بنا پر اُس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کی ایک مثال مشہور مسلم شاعر اقبال (وفات 1938) کی ہے۔ انہوں نے قومیت اور وطنیت کے اس انتہا پسندانہ وقتی تصور کو اصل سمجھ کر اُس کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے : اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور تہذیب کے آزر نے ترشواتے صنم اور ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اِس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے قومیت اور وطنیت کے بارے میں یہ نظریہ بلا شبہ بے بنیاد ہے۔ عجیب بات ہے کہ اُس دور کے اکثر مسلم علماء اور دانشوروں نے سیاسی نوعیت کی چیزوں کو مذہب یا اسلام کے لیے موت وحیات کا مسئلہ سمجھ لیا۔ حالاں کہ کوئی بھی سیاسی اُتار چڑھاؤ مذہبِ اسلام کی ابدیت کے لیے چیلنج نہیں بن سکتا۔ مثلاً بیسویں صدی کے آغاز میں ترکی کی عثمانی سلطنت ٹوٹی تو شبلی نعمانی نے یہ شعر کہا: زوالِ دولتِ عثماں زوالِ شرع و ملت ہے عزیز و فکروفرزند وعیال و خانماں کب تک یہ تصور یقینی طور پر بے بنیاد ہے کہ کسی حکومت کا ٹوٹنا "شرع وملت" کے لیے زوال کے ہم معنیٰ ہے۔ ایسا نہ کبھی ہوا اور نہ ایسا کبھی ہو سکتا۔ دورِ اول میں خلافتِ راشدہ ٹوٹی مگر اسلام کی پُر امن توسیع مسلسل جاری رہی۔ اس کے بعد اموی سلطنت ٹوٹی تب بھی اسلام کا سفر بدستور جاری رہا، اس کے بعد عباسی سلطنت ٹوٹی، اندلس کی مسلم سلطنت ٹوٹی، مصر کی فاطمی سلطنت ٹوٹی، ہندوستان کی مغل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page