امن عالم
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
سلطنت ٹوٹی، وغیرہ وغیرہ۔ مگر سلطنتوں کا یہ زوال اسلام کے زوال کا سبب نہ سکا۔ اسی طرح بیسویں صدی میں کئی انتہا پسندانہ نظریات ابھرے۔ مثلاً کمیونزم، نازی ازم، نیشنلزم اور وطنیت، وغیرہ۔ مگر ان سب کا آخری انجام یہ ہوا کہ فطرت کا قانون اُن کے انتہا پسندانہ عناصر کو رد کرتا ہے اور آخر کار جو چیز بچی وہ وہی تھی جو قانون فطرت کے مطابق مطلوب تھی۔ فطرت کا ابدی قانون ہر دوسری چیز پر بالا ہے۔ فطرت کا قانون اپنے آپ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معتدل افکار کو رد کر کے اُنہیں میدانِ حیات سے ہٹا دیتا ہے اور اُن کے بجائے معتدل افکار کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ کفر اور کافر کا تصور اسی طرح اس معاملہ میں ایک متعلق اصطلاح کفر کی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں کفر اور کافر کا جو تصور پایا جاتا ہے وہ قومی یکجہتی کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ مگر یہ خیال ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ کفر کے لفظی معنی انکار کے ہوتے ہیں اور کافر کا مطلب ہے، انکار کرنے والا۔ یہ دونوں الفاظ قرآن میں پیغمبر کی نسبت سے بولے گئے ہیں، وہ عام لوگوں کی نسبت سے نہیں بولے گئے۔ مزید یہ کہ کفریا کافر ایک شخصی کردار ہے۔ وہ کسی گروہ کا نسلی یا وراشتی نام نہیں۔ کفریا انکار کا تحقق کسی کے بارے میں اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُس کے اوپر پیغمبرانہ قسم کی دعوت جاری کی جائے اور اُس کو تکمیل کی حد تک پہنچایا جائے جس کو اتمامِ حجت کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی پیغمبرانہ دعوت کے بغیر کسی کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ اُس نے کفریا انکار کا فعل کیا ہے۔ اسی طرح کسی فرد یا مجموعہ افراد کے بارے میں متعین اور مشخص طور پر یہ اعلان کرنا کہ وہ کافر ہو چکے ہیں، عام لوگوں کے لیے جائز نہیں۔ کفر کے فعل کا تعلق حقیقتاً نیت سے ہے اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ اس لیے متعین اور مشخص طور پر کسی کے بارے میں یہ اعلان کرنا کہ وہ کافر ہو گیا ہے، یہ خالصتاً اللہ کا کام ہے یا اللہ کے دیے ہوئے علم کی بنا پر پیغمبر کا۔ چنانچہ قرآن میں صرف ایک ایسا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader