جہاد کا تصور
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
بادشاہوں کی طرف سے اس قسم کے واقعات قدیم زمانہ میں ہر ملک میں ہوئے۔ مگر وہ صرف قدیم تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ گئے، وہ بعد کے زمانہ میں دو قوموں کے درمیان مستقل نزاع کا سبب نہ بن سکے۔ صرف ہندوستان میں ایسا ہوا کہ اس طرح کے واقعات یہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مستقل طور پر تلخی کا سبب بن گئے۔ اس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ فساد بھی بار بار ہوئے۔ وہ قومی یکجہتی کا ماحول قائم کرنے کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ بن گئے۔ میرے نزدیک اس استثنائی صورت حال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مسلم علماء اور دانشوروں نے ہندوستان کی مسلم حکومتوں کو اسلامی حکومت کا نام دے دیا۔ وہ اس کو اسلام کی تاریخ کا ایک باب سمجھنے لگے۔ حالاں کہ ان حکومتوں کی حیثیت صرف کچھ مسلم خاندانوں کی حکومت (dynasty) کی تھی۔ اُن کو اصولی اعتبار سے اسلام کی حکومت بتانا درست نہ تھا۔ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر ایسا ہوا کہ جو واقعات ایک مخصوص مسلم خاندان کی حکمرانی سے تعلق رکھتا تھا وہ اسلام کے نام کے ساتھ جڑ گیا۔ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر یہ شدید غلطی ہوئی کہ مسلمان ان حکمرانوں کے دورِ حکومت کو اپنے لیے اسلامی فخر کے طور پر لینے لگے۔ وہ اُس کو غلبۂ اسلام کی علامت سمجھنے لگے۔ دوسری طرف ہندوؤں میں وہ نظریہ پیدا ہوا جس کو تاریخی غلطیوں (historical wrongs) کی اصلاح کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ واضح طور پر باہمی تلخی کی صورت میں نکلا۔ مسلمانوں نے جب اس کو اپنا فخر بنایا تو شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اُن کی مذہبی تاریخ کا ایک مقدّس حصہ بن گیا اور دوسری طرف ہندوؤں نے اُس کو تاریخی غلطی سمجھ کر اُس کی اصلاح کی کوشش شروع کردی۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں دونوں فریق غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ مسلمان کی غلطی یہ ہے کہ وہ اس تاریخ کو مذہبی حیثیت دینے کی بنا پر اُس پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور دوسری طرف ہندوؤں کی غلطی یہ ہے کہ وہ گذری ہوئی تاریخ کو بھولنے پر تیار نہیں۔ وہ ماضی کی غلطیوں کی تصحیح پر اصرار کر رہے ہیں، خواہ اُس کے نتیجہ میں حال کے امکانات برباد ہوکر رہ جائیں۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں دونوں فریقوں کو حقیقت پسند بننا چاہیے۔ مسلمانوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader