Urdu book · امن عالم

جہاد کا تصور

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن وسنت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مسلحانہ جنگ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف مفسدانہ جنگ ہے۔ اجتماعی زندگی میں پر امن اظہارِ خیال کا حق تو ہر ایک کو ہے لیکن طاقت کو استعمال کر کے اصلاح کرنے کا نظریہ بین اقوامی زندگی میں ناقابل قبول ہے۔ اجتماعی یا بین اقوامی زندگی میں کوئی گروہ اپنے لیے ایک ایسا حق نہیں لے سکتا جسے وہ دوسروں کو دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اگر ایک گروہ اپنے لیے اصلاحی جنگ کا حق لینا چاہے تو یقینی طور پر اسے دوسروں کو بھی اصلاحی جنگ کا یہ حق دینا ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر گروہ خود ساختہ اصلاح کے نام پر دوسرے سے جنگ شروع کر دے گا۔ اس کے نتیجہ میں اصلاح تو نہ ہوگی البتہ اس کی وجہ سے ایک ایسا فساد برپا ہوگا جو کبھی ختم نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی جائز صورت صرف ایک ہے، اور وہ دفاع ہے۔ اگر ایک قوم اپنی جغرافی حد سے تجاوز کر کے دوسری قوم کے اوپر کھلا حملہ کر دے تو ایسی صورت میں زیر حملہ قوم کو اپنے بچاؤ میں جوابی جنگ کا حق حاصل ہے۔ اس ایک صورت کے سوا کسی بھی دوسری صورت میں متششدانہ جنگ کا کوئی جواز نہیں۔ یہ اجتماعی اصول اسلام میں بھی اسی طرح مسلم ہے جس طرح سے وہ دوسرے نظاموں میں تسلیم کیا گیا۔ اس اجتماعی اصول کے معاملہ میں اسلام اور غیر اسلام کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مسئلہ وہ ہے جو پچھلی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ پچھلا زمانہ بادشاہی زمانہ تھا۔ ساری دنیا میں ہر جگہ کچھ خاندان حکومت کرتے تھے۔ اُس زمانہ میں بادشاہ کا یہ حق سمجھا جاتا تھا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے اور وہ جو چاہے کرے ۔ اس بنا پر قدیم شاہی زمانہ میں ہر بادشاہ نے ایسے کام کیے جو اخلاقی یا قانونی اعتبار سے درست نہ تھے۔ قدیم زمانہ میں ہندوستان کے مسلم بادشاہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ مثلاً محمود غزنوی نے سومناتھ کے ہندو مندر کو ڈھایا اور اُس کے سونے کے ذخیرہ کو لوٹا۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے بنارس کے ایک ہندو مندر کو ڈھایا اور اُسی جگہ مسجد تعمیر کی۔ وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page