جہاد کا تصور
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
دعویٰ کررہی تھیں کہ وہ اُس کی ماں ہے اور اس بچہ کو اس کے حوالہ کردینا چاہيے۔ مگر دونوں میں سے کسی کے پاس بھی کوئی قانونی ثبوت موجود نہ تھا۔ یہ قاضی کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ آخر کار اُس نے یہ حکم دیا کہ بچہ کے جسم کو پنچ سے کاٹ کر دو ٹکڑے کردئے جائیں اور پھر اُس کا ایک ٹکڑا ایک عورت کو دیا جائے اور اُس کا دوسرا ٹکڑا دوسری عورت کو دیا جائے۔ قاضی نے جب اپنا یہ حکم سنایا تو جو عورت بچہ کی ماں ہونے کی فرضی دعویدار تھی اُس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا مگر جو عورت بچہ کی حقیقی ماں تھی وہ چیخ اٹھی۔ اُس نے کہا کہ بچہ کو مت کاٹو۔ اُس کو تم دوسری عورت کے حوالہ کردو۔ یہی محبت کا حقیقی معیار ہے۔ جن لوگوں کو ملک سے حقیقی محبت ہے انہیں چلا کر کہنا چاہیے کہ ہم دیش کی تباہی کو دیکھ نہیں سکتے۔ پچھلی تاریخ میں جو کچھ ہوا اُس کو ہم بھلاتے ہیں تاکہ حال کے مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کیا جاسکے اور ملک کا ایک نیا شاندار مستقبل پیدا کیا جاسکے۔ قومی زندگی میں امن اور اتحاد کا اصول صرف toleration کی بنیاد پر ممکن ہے۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ مختلف افراد اور مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوں۔ فرق اور اختلاف زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ اس لیے فرقہ وارانہ زندگی میں اعتدال کا ماحول فرق اور اختلاف کو مٹا کر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مقصد جب بھی حاصل ہوگا تحمل اور ٹارلنس کی بنیاد پر حاصل ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کو مٹانے کی کوشش کسی انسانی گروہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ فطرت کے عالم گیر قانون کے خلاف ہے۔ کوئی بھی شخص یا گروہ اتنا طاقت ور نہیں ہے کہ وہ فطرت سے لڑ کر جیت سکے۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں برداشت کے اصول کو اپنایا جائے نہ کہ ٹکراؤ کے اصول کو۔ اختلاف کو گوارا کرو تا کہ اتحاد قائم ہو۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ دوسرے سے ممکن ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader