Urdu book · امن عالم

ہائی جیکنگ ایک مجرم

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

ہائی جیکنگ ایک جرم ہائی جیکنگ ( ہوائی قزاقی ) بلاشبہ ایک فعل حرام ہے۔ اس کو جس پہلو سے بھی دیکھا جائے ، یقینی طور پر وہ شرعی اعتبار سے حرام اور انسانی اعتبار سے جرم قرار پائے گا۔ ہائی جیکنگ کو جائز ثابت کرنا صرف جرم کے اوپر سرکشی کا اضافہ ہے۔ ہائی جیکنگ ایک ایسا جرم ہے جس میں بیک وقت کئی سنگین جرائم شامل ہو جاتے ہیں ـ رہزنی (highway robbery) ، یرغمال (hostage) بنانا ، ناحق قتل کرنا ، دھوکہ کی جنگ ، کسی کے مال کو غصب کرنا اور اس کو نقصان پہنچانا۔ 1۔ رہزنی کیا ہے ، رہزنی یہ ہے کہ کسی آدمی کو غیر محفوظ (vulnerable) حالت میں پا کر اس پر حملہ کرنا اور اس کو جانی اور مالی نقصان پہنچانا۔ پہلے زمانہ میں بڑی رہزنی (highway robbery) کا رواج تھا۔ اس کے بعد بحری قزاقی (piracy) کی جانے لگی۔ اب موجودہ زمانہ میں ہوائی قزاقی (hijacking) شروع ہوگئی ہے۔ رہزنی کی یہ تمام قسمیں اسلام میں یکساں طور پر حرام ہیں۔ جو فرد یا گروہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس قسم کا فعل کرے وہ بلاشبہ سخت گناہ گار ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے لیے اسی انجام کا خطرہ ہے جو کسی فعل حرام کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے مقدر ہے۔ الّا یہ کہ وہ توبہ کرے اور علی الاعلان متعلقہ افراد سے اپنے جرم کی معافی مانگے۔ اسی کے ساتھ وہ اس نقصان کی تلافی کرے جو اس نے ہائی جیکنگ کے ذریعہ کسی کو پہنچایا ہے۔ 2۔ یرغمال بنانا یہ ہے کہ اپنی کچھ مانگوں کے لیے موقع پا کر معصوم لوگوں کو پکڑنا اور پھر سودے بازی کرنا۔ یرغمال بنانے کا یہ رواج قدیم زمانہ میں بھی تھا لیکن موجودہ زمانہ میں اس نے اب باقاعدہ فن کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس قسم کا فعل بلاشبہ سخت گناہ بھی ہے اور بزدلی بھی۔ یہ بات اسلام میں سراسر حرام ہے کہ آپ کو کسی سے شکایت ہو اور آپ اس کا بدلہ کسی اور سے لیں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر کسی معصوم جان کو ستانا اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے نام سے جو معاہدہ کیا تھا اس سے مزید ثابت ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page