غیر حکیمانہ طریقہ
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
مانا اور پولیس ایکشن کے ذریعہ ریاست جونا گڑھ کو انڈین یونین میں ملالیا۔ اس کے بعد دہلی میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں ہندوستان کی طرف سے جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل شریک تھے، اور پاکستان کی طرف سے نواب زادہ لیاقت علی خاں اور چودھری محمد علی نے شرکت کی۔ مصنف لکھتے ہیں کہ سردار پٹیل اگر چہ پاکستان کے سخت دشمن تھے مگر وہ نہرو سے زیادہ حقیقت پسند تھے۔ دونوں ملکوں کے وزیر اعظم کے درمیان ایک گفتگو میں، جس میں پٹیل اور میں دونوں موجود تھے، لیاقت علی خاں نے کشمیر اور جونا گڑھ کے معاملہ میں انڈیا کے متضاد رویہ پر تفصیلی کلام کیا۔ انہوں نے کہا کہ جونا گڑھ کے حکمران کے پاکستان سے الحاق کے باوجود وہ انڈیا کا حصہ ہے۔ کیوں کہ وہاں کی اکثریت ہندو ہے تو کشمیر اپنی مسلم اکثریت کے ساتھ کیوں کر انڈیا کا حصہ بن سکتا ہے، صرف اس لیے کہ وہاں کے ہندو حکمران نے انڈیا کے ساتھ ایک مشروط الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دئےے۔ اگر جونا گڑھ کے الحاق کی دستاویز جس پر وہاں کے مسلم حکمران نے دستخط کیے ہیں اپنے اندر کوئی جواز نہیں رکھتی تو اس دستاویز کا بھی کوئی جواز نہیں جس پر کشمیر کے ہندو حکمران نے دستخط کیے ہیں۔ اگر جونا گڑھ میں وہاں کے عوام کی خواہش اہمیت رکھتی ہے تو یہی اصول کشمیر کے لیے بھی ہونا چاہیے ۔ انڈیا یا کشمیر اور جونا گڑھ دونوں کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جب لیاقت علی خاں نے یہ بات کہی تو پٹیل اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور پھٹ پڑے، انہوں نے کہا کہ تم جونا گڑھ کا موازنہ کشمیر سے کیوں کرتے ہو، حیدر آباد اور کشمیر کی بات کرو، اور ہم ابھی ایک تصفیہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ پٹیل کا نظریہ اس موقع پر اور بعد کو بھی یہ تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے کو ان کی مرضی کے خلاف اپنے قبضہ میں رکھنا انڈیا کے لیے کمزوری کا ذریعہ ہو گا، نہ کہ طاقت کا ذریعہ۔ ان کا احساس تھا کہ انڈیا اور پاکستان اگر اس پر راضی ہو جائیں کہ حیدر آباد انڈیا کے ساتھ ہو اور کشمیر پاکستان کے ساتھ، تو کشمیر اور حیدر آباد کا مسئلہ پرامن طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ اس میں مشترک طور پر دونوں ہی کا فائدہ ہو گا۔ Sardar Patel, although a bitter enemy of Pakistan was a greater realist than Nehru. In one of the discussions between the two Prime Ministers, at which Patel and I were also present, Liaquat Ali Khan dwelt at length on the inconsistency of the Indian

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader