غیر حکیمانہ طریقہ
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
ہی لمبی ہو جائے صبح بہر حال آکر رہتی ہے۔ اس وقت کی مسلم قیادت یا عرب قیادت اگر حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتی اور ابتدائی مرحلہ میں جو کچھ اس کو مل رہا تھا اس کو لے کر وہ اپنی ساری کوشش تعمیر و ترقی کے کام میں لگا دیتی تو آج فلسطین کے عرب مسلمانوں کی حالت وہاں کے یہود سے بدر جہا زیادہ بہتر ہوتی۔ مگر غیر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ فلسطینیوں کے حصہ میں تباہی کے سوا کچھ نہ آیا۔ ٹھیک یہی معاملہ جموں و کشمیر میں بھی پیش آیا ہے۔ کشمیری قیادت اور پاکستانی قیادت دونوں اس معاملہ میں بدترین نااہلی کا شکار ہوئی ہیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیر کا موجودہ مسئلہ خود اس کے قائدین کی نادانیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا، نہ کہ کسی اور کے ظلم یا سازش کے نتیجہ میں۔ اس معاملہ میں مسلم قائدین کی نادانیوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ یہاں میں اس کے صرف ایک پہلو کا ذکر کروں گا۔ 1947 میں جب ملک تقسیم ہوا تو پاکستان کی قیادت غیر حقیقت پسندانہ طور پر دو مختلف ریاستوں کی دعویدار بن گئی ــ جونا گڑھ اور حیدر آباد۔ اگر پاکستان کی قیادت حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے جونا گڑھ اور حیدر آباد کی مدعی نہ بنتی (جو پاکستان کو سرے سے ملنے والا ہی نہ تھا) تو کشمیر کا معاملہ کبھی سنگین نہ بنتا۔ اس کا فیصلہ نہایت آسانی کے ساتھ پاکستان کے حق میں ہو جاتا۔ مگر پاکستانی قائدین کی دو طرفہ دوڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں میں سے کوئی ایک بھی ان کے حصہ میں نہ آیا۔ یہاں میں اس سلسلہ میں خود پاکستان کے دو حوالے نقل کروں گا۔ اس سلسلہ میں پہلا حوالہ چودھری محمد علی کا ہے ۔ وہ 56-1955 میں پاکستان کے پرائم منسٹر تھے۔ اس سے پہلے وہ لیاقت علی خاں کی حکومت میں منسٹر کی حیثیت سے شریک تھے۔ پاکستان کے حالات پر ان کی ایک ضخیم انگریزی کتاب چھپی ہے جس کا نام ایمرجنس آف پاکستان (Emergence of Pakistan) ہے۔ اس کتاب میں وہ بتاتے ہیں کہ تقسیم کے بعد جونا گڑھ کے مسلم نواب نے پاکستان کے ساتھ اپنی ریاست کا الحاق کر لیا جب کہ جونا گڑھ میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ انڈیا نے اس الحاق کو نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader