غیر حکیمانہ طریقہ
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں اس کتاب کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے : ” بعد میں کشمیر پر حملہ کے دوران جب ماؤنٹ بیٹن لاہور آیا۔ ایک ڈنر جس میں لیاقت، گورنر مودی اور پنجاب کے چار وزیر موجود تھے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پٹیل کا پیغام پہنچایا۔ پٹیل جو ہندوستان کی ایک طاقتور شخصیت تھا اس کا پیغام تھا کہ اس اصول کی پابندی کی جائے جو کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں طے پایا تھا۔ وہ یہ کہ ریاست اپنے باشندوں کی اکثریت اور سرحدوں کے ساتھ ملاپ کی بنا پر پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں گی۔ پٹیل نے کہلایا کہ پاکستان کشمیر لے لے اور حیدر آباد دکن کا مطالبہ چھوڑ دے۔ جہاں پر ہندو آبادی کی اکثریت تھی اور جس کا پاکستان کے ساتھ زمینی یا سمندری ذریعے سے کوئی اتصال بھی نہ تھا۔ یہ پیغام دینے کے بعد ماؤنٹ بیٹن گورنمنٹ ہاؤس میں آرام کرنے چلا گیا۔ میں کشمیر آپریشن کا مکمل نگراں تھا۔ میں نے لیاقت علی کے پاس جا کر انہیں تجویز دی کہ ہندوستان کی فوج کشمیر میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم قبائلیوں کی مدد سے اس کو باہر نکالنے اور کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ یہاں تک کہ ہماری اس وقت کی فوج بھی اس کامیابی کے حصول میں شاید مددگار ثابت نہ ہو سکے گی۔ لہذا ہمیں پٹیل کی پیش کش کو ٹھکرانا نہیں چاہیے۔ نواب زادہ نے میری جانب مڑ کر کہا ’ سردار صاحب کیا میں پاگل ہو گیا ہوں کہ میں کشمیر کے پہاڑوں اور ٹیلوں کے بدلے ریاست حیدر آباد دکن کو چھوڑ دوں جو پنجاب سے بھی بڑی ریاست ہے۔‘ لیاقت علی خاں کے اس رد عمل کو دیکھ کر میں تو سن ہو گیا کہ ہمارا وزیر اعظم ملکی جغرافیہ سے اتنا بے خبر تھا۔ اس کی ذہانت کا یہ معیار کہ وہ حیدر آباد دکن کو کشمیر پر ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تو احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات تھی۔ حیدر آباد کا حصول ایک سراب تھا جب کہ کشمیر مل رہا تھا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے۔ چنانچہ احتجاج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader