Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

کے طور پر میں نے کشمیر آپریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا (صفحہ 32-231)۔ پاکستانی لیڈر کے مذکورہ بیان کو اگر درست مان لیا جائے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مکمل طور پر اور یک طرفہ طور پر خود مسلم قیادت کا پیدا کیا ہوا ہے، کسی اور کا نہیں۔ یہاں میں صرف یہ اضافہ کروں گا کہ فطرت کے مسلمہ قانون کے مطابق، کسی شخص یا قوم کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اپنی غلطی کی قیمت دوسرے سے وصول کر سکے۔ اپنی غلطی کی قیمت آدمی کو بہر حال خود ادا کرنا پڑتا ہے، اور یقینی طور پر پاکستان کا اس میں کوئی استثنا نہیں۔ حقیقت پسند بنے اپریل 1986 ء کے آخری ہفتہ میں امرتسر میں کچھ سکھوں نے بطور خود آزاد خالصتان کے قیام کا اعلان کر دیا۔ عین اسی زمانہ میں میں نے دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس میں ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان یہ تھا— حقیقت کا اعتراف: Acceptance of Reality. میرا یہ مضمون پنجاب اور کشمیر دونوں کے بارے میں تھا۔ میں نے پنجابیوں اور کشمیریوں دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ علیحدہ پنجاب اور علیحدہ کشمیر کی تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ وہ حقیقت کی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی کوشش سے کچھ لوگ اپنا سر تو توڑ سکتے ہیں مگر وہ صورت حال کو بدل نہیں سکتے۔ میں نے دونوں جگہ کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیں اور صورت موجودہ (status quo) کو مان کر مثبت انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ سکھ لوگ جلد ہی معاملہ کو سمجھ گئے۔ اور انہوں نے اس مسئلہ پر اپنی متشددانہ تحریک ختم کردی۔ کشمیر کے لوگ بھی یقینی طور پر آخر کار یہی راستہ اختیار کریں گے مگر اس وقت جب کہ ان پر فارسی کا یہ شعر صادق آچکا ہوگا کہ جو کام ایک عقلمند انسان کرتا ہے وہی کام ایک نادان انسان بھی کرتا ہے، لیکن کافی نقصان اٹھانے کے بعد: آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page