امن عالم
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بارے میں اقوام متحدہ کا رزولیوشن اب غیر متعلق (irrelevant) ہو چکا ہے۔ تاہم اس سے قطع نظر میں ایک اصولی بات کہوں گا۔ وہ یہ کہ اپنا حق خوداپنی طاقت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ دوسرے کی طاقت کے زور پر کبھی کسی نے اپنا حق حاصل نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ قسم کا نظریہ صرف کسی خوش فہم انسان کے دماغ میں جگہ پا سکتا ہے۔ عالم واقعہ میں ایسے کسی نظریہ کا وجود نہیں۔ اب کشمیریوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا نام خوش فہم قوم کی حیثیت سے لکھوانا چاہتے ہیں یا حقیقت شناس قوم کی حیثیت سے۔ اسلامی تحریک نہیں کشمیر کے جنگجو مسلمان اپنی موجودہ جنگ کو اسلامی جہاد کہتے ہیں۔ یہ ایک سخت قسم کا مغالطہ ہے جس میں یہ حضرات مبتلا ہیں۔ اس معاملہ میں ہمارے لوگوں کی ناقابل فہم خاموشی نے ان کے اس یقین میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کشمیر کی موجودہ جنگ یقینی طور پر جہاد نہیں۔ اس میں حصہ لینے والے کو ہر گز جہاد کا انعام نہیں مل سکتا۔ جس طرح نماز کی شرطیں ہیں اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کی بھی شرطیں ہیں اور کشمیر کی لڑائی ان شرطوں پر پوری نہیں اترتی۔ جہاد کے لیے ایک باقاعدہ امیر ہونا چاہیے۔ جہاد کے لیے ایک با اختیار مسلم علاقہ بطور مرکز ہونا چاہیے۔ جہاد کے لیے پہلے ضروری تیاری ہونا چاہیے۔ جہاد ملک و مال کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ہوتا ہے، وغیرہ۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ کشمیر کی لڑائی ان میں سے کسی بھی شرط پر پوری نہیں اترتی۔ کشمیر کی موجودہ لڑائی کو یا تو گوریلا وار کہا جاسکتا ہے یا پراکسی وار۔ اور ان دونوں ہی قسم کی جنگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ گوریلا وار اس لیے غیر اسلامی ہے کہ اسلام میں جہاد حاکم کا کام ہے، نہ کہ عوام کا کام۔ اور پراکسی وار اس لیے غیر اسلامی ہے کہ جو حکومت اس پراکسی وار کو چلا رہی ہے اس نے اس کا اعلان نہیں کیا اور اسلامی جنگ کے لیے کھلا اعلان لازمی شرط ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو کشمیر کی موجودہ ناکام جنگ کشمیریوں کو یہ پیغام دے رہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader