امن اور انصاف
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر جاری رکھ سکتے ہیں۔ آخر کار جو کچھ ہونے والا ہے وہ یہ کہ کشمیر کے جنگجو تھک جائیں اور مجبورانہ طور پر اپنی جنگ کو ختم کردیں۔ مگر صحیح یہ ہوگا کہ کشمیر کے لوگ دانش مندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خود اپنے فیصلے کے تحت اس تباہ کن جنگ کا خاتمہ کردیں۔ کشمیر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ کشمیر میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن (peace) ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی امن چاہتے ہیں ، مگر کون سا امن۔ امن وہ ہے جس کے ساتھ انصاف ملے، جس امن کے ساتھ انصاف شامل نہ ہو وہ تو صرف ظالموں کے لیے مفید ہے، نہ کہ مظلوموں کے لیے۔ میں نے کہا کہ یہ سب سے زیادہ سنگین غلط فہمی ہے جس میں تمام دنیا کے مسلم رہنما مبتلا ہیں۔ امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) سے کی جاتی ہے۔ اور یہ بالکل صحیح تعریف ہے۔ امن کبھی انصاف کے لیے نہیں ہوتا۔ امن صرف اس لیے ہوتا ہے کہ انصاف کے حصول کی کوشش کے لیے کارگر فضا حاصل ہو سکے۔ یہی عقل کے مطابق بھی ہے اور یہی اسلام کے مطابق بھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حدیبیہ کا امن معاہدہ کیا تو اس میں آپ کو صرف امن ملا تھا، انصاف نہیں ملا تھا۔ البتہ جب امن کے ذریعہ معتدل حالات پیدا ہوئے تو آپ نے ان حالات میں عمل کر کے کو انصاف بھی حاصل کر لیا۔ انصاف کبھی امن کا جزء نہیں ہوتا، انصاف ہمیشہ امن کے بعد حاصل شدہ مواقع کو استعمال کرنے سے ملتا ہے، نہ کہ براہ راست طور پر خود امن سے۔ کشمیر کی متشددانہ تحریک کے رہنماؤں سے بات کی جائے تو وہ ہمیشہ اور یکساں طور پر ایک بات کو دہراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی تجویزوں کی روشنی میں ہمارے معاملے کا فیصلہ کیا جائے۔ بالفاظ دیگر یہ کہ کشمیر میں (referendom) کرایا جائے۔ قانونی یا منطقی طور پر اس بات کا بے وزن ہونا اس وقت ساری دنیا کو معلوم ہو گیا جب کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اپنے ایک دورہ کے درمیان اسلام آباد میں یہ اعلان کیا کہ کشمیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader