امن عالم
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک سخت قسم کا مغالطہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گوریلا وار کا انجام ہمیشہ اور ہر جگہ یہی ہوتا ہے۔ گوریلا وار پہلے بظاہر اچھے لوگ شروع کرتے ہیں مگر بعد کو اس میں برے لوگ شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں شامل ہو کر انہیں اسلامی جہاد یا وطنی آزادی کا شلٹر (shelter) مل جاتا ہے جس کے زیر سایہ وہ اپنی لوٹ مار کو جائز بنا کر جاری رکھ سکیں۔ مذکورہ قسم کا عذر کشمیر یوں کے لیے کوئی کام آنے والا نہیں۔ انہیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ گوریلا وار شروع کرنا اول دن ہی سے ایک غلطی تھی۔ اس طرح کے حالات میں اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پہلا قدم ہوتا ہے، نہ کہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا۔ ممکن کی سیاست زندگی نام ہے دوسرے موقع (second chance) کو استعمال کرنے کا۔ یہ تاریخی حقیقت کشمیر کے بارے میں بھی اتنا ہی درست ہے جتنا کہ دوسرے ملکوں کے بارے میں۔ مثلاً انڈیا کے لیے پہلا موقع یہ تھا کہ آزادی کے بعد وہ ایک متحد ہندوستان کی صورت میں دنیا کے نقشہ پر ابھرے۔ مگر یہ پہلا موقع اس کے لیے مقدر نہ ہو سکا۔ اس کے بعد یہاں کے لیڈروں نے دوسرے ملے ہوئے موقع کو استعمال کیا اور اب انڈیا نہایت تیزی کے ساتھ ایک طاقتور اور ترقی یافتہ ملک کی صورت میں ابھر رہا ہے۔ یہی معاملہ پاکستان کے ساتھ پیش آیا۔ پاکستانی لیڈروں کا پہلا خواب یہ تھا کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان، دونوں کے مجموعہ کی صورت میں وہ ایک بڑا ملک بنائیں ۔ مگر 1972 میں یہ پہلا موقع ان کے لیے ختم ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرے حاصل شدہ موقع کو استعمال کیا۔ اور اب پاکستان مسلم دنیا کے ایک اہم ملک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہی معاملہ کسی نہ کسی صورت میں دنیا کے ہر ملک کے ساتھ پیش آیا۔ ہر ملک نے کسی نہ کسی صورت میں پہلے موقع کو کھویا ہے۔ مگر دوسرے موقع کو استعمال کر کے اس نے دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لی ہے۔ یہی معاملہ کشمیر کا ہے۔ کشمیر کے لیڈروں نے 1947 سے پہلے کشمیر کے بارے میں ایک سیاسی خواب دیکھا تھا۔ یہ گویا ان کے لیے پہلا موقع تھا۔ مگر 1947 کے انقلاب کے بعد یہ پہلا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader