امن عالم
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
موقع ان سے کھویا گیا۔ اب کشمیر کے لوگوں کے لیے صحیح اور ممکن طریقہ یہ ہے کہ وہ دوسرے موقع کو استعمال کریں، وہ دوسرے موقع کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر کی نئی تعمیر کریں۔ کشمیری لیڈر کشمیر کو ایک آزاد کشمیر کی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے ۔ بظاہر یہ ناممکن نہ تھا۔ مگر 1947 کے بعد حالات میں جو فیصلہ کن تبدیلی ہوئی ہے اس نے اب اس کو ناممکن بنا دیا ہے کہ برصغیر ہند کے نقشہ میں آزاد کشمیر کے نام سے کوئی مستقل ملک بنے۔ اب حالات کے اعتبار سے جو چیز ممکن ہے وہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ دستور ہند کی دفعہ 370 کے مطابق وہ انڈیا کا ایک حصہ بنے۔ کشمیری لیڈر اب تک ناممکن کی سیاست چلا رہے تھے۔ اب انہیں حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے وہ ممکن سیاست چلانا چاہیے جو بروقت ان کے لیے قابل حصول ہے۔ کشمیر کے بارے میں اس حقیقت کا اندازہ مجھے خدا کے فضل سے ملکی آزادی کے بعد ہی ہو گیا تھا۔ تاہم اس پر میرا پہلا تحریری بیان غالباً وہ ہے جو 1968 میں چھپا تھا۔ یہ پورا بیان اس مجموعہ میں دوسرے مقام پر موجود ہے۔ کشمیر یوں کے لیے واحد درست مشورہ یہ ہے کہ وہ ماضی کو بھلا کر حال میں جینا سیکھیں۔ وہ حال کے ممکن نقشہ میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں ، نہ کہ ماضی کے نقشہ میں جو کہ اب عملاً خیالی اور تصوراتی بن چکا ہے۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان اگر اعتراف حقیقت کی پالیسی اختیار کر لے تو یہ پاکستان کے لیے کوئی نئی چیز نہ ہوگی۔ اس سے پہلے وہ بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) کے بارے میں اعتراف حقیقت کی یہی پالیسی اختیار کر چکا ہے۔ ایسی حالت میں پاکستان کے لیے اس معاملہ میں کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ عالمی امکانات کشمیر کے مسلمانوں کو فطری طور پر کئی پلس پوائنٹ حاصل ہیں جن پر انہوں نے غالباً ابھی تک غور نہیں کیا۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ مل کر وہ دنیا کے سب سے بڑے مسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader