حل کی طرف
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جائے۔ کسی قوم کی زندگی میں بعض اوقات ایسا لمحہ آتا ہے جب کہ قوم کا ترقیاتی سفر رک جاتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ ایک جرأت مندانہ فیصلہ کیا جائے تاکہ دوبارہ قوم کا سفر معتدل انداز میں جاری ہو سکے۔ اس قسم کا نازک فیصلہ اکثر اوقات عوامی جذبات کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا جرأت مندانہ فیصلہ اکثر ایسے افراد کرتے ہیں جو فوجی حکمراں کی حیثیت رکھتے ہوں۔ جمہوری حکمران اس قسم کا جرأت مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ کیوں کہ وہ عوام کی رایوں سے چن کر حکومت تک پہنچتا ہے ، اس بنا پر اس کے لیے ایسا کوئی انقلابی فیصلہ لینا ممکن ہو جاتا ہے جو عوامی احساسات سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہاں میں اس نوعیت کی دو مثالیں پیش کروں گا۔ مسلم تاریخ میں اس کی ایک مثال صلاح الدین ایوبی ( وفات 1193 ء) کی ہے۔ صلاح الدین کا یہ عظیم کارنامہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے صلیبی قوموں کی فوجی یلغار سے مسلم دنیا کو بچایا۔ مگر صلاح الدین کو یہ طاقتور حاکمانہ حیثیت کیسے ملی جب کہ وہ اپنا یہ عظیم رول ادا کر سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلاح الدین ایوبی مصر کے سلطان نور الدین محمود زنگی کا ایک فوجی افسر تھا۔ سلطان نور الدین (1174-1118ء) کی موت کے بعد اگرچہ اس کے بیٹے موجود تھے ، لیکن صلاح الدین نے حکومت پر قبضہ کر کے سلطان کا منصب حاصل کر لیا۔ مسلم مورخین نے عام طور پر صلاح الدین کے اس قبضہ کی کارروائی کو جائز قرار دیا ہے۔ کیوں کہ یہ قبضہ اگر چہ بظاہر غیر آئینی تھا لیکن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ ایک عظیم سیاسی فائدہ کا سبب بنا۔ اسی نے صلاح الدین ایوبی کے لیے اس امر کو ممکن بنایا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اپنا وہ عظیم کردار ادا کر سکے جو کہ اس نے اس کے بعد ادا کیا۔ دوسری مثال فرانس کے چارلس ڈیگال ( وفات 1970) کی ہے۔ وہ فرانس کی فوج میں ایک جنرل تھا۔ اس کے بعد اس نے حالات سے فائدہ اٹھا کر فرانس کے سیاسی اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بظاہر یہ ایک غیر جمہوری عمل تھا مگر فرانس کی نجات کے لیے ڈیگال نے ایک ایسا کام کیا جو کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader