Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ فریقِ ثانی نے اس کا حق چھین رکھا ہے۔ اس دوطرفہ احساس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں گویا ”بھی ہارا، تم بھی ہارے“ کی نفسیات میں جیتے رہے۔ دونوں پڑوسیوں کے درمیان وہ معتدل فضا باقی نہ رہی جو دونوں ہی کی ترقی کے لیے ضروری تھی۔ اب اگر دونوں ملک دانش مندی سے کام لیتے ہوئے ”میں بھی ہارا، تم بھی ہارے“ کی منفی نفسیات سے باہر آ جائیں اور اس کے بجائے، دونوں ”میں بھی جیتا، تم بھی جیتے“ کے مثبت فارمولے کو اختیار کر لیں تو اچانک دونوں ملکوں کے درمیان انسانی ترقی کے نئے دروازے کھل جائیں گے۔ اس کے بعد وہ حقیقی انڈیا اور وہ حقیقی پاکستان بننا شروع ہو جائے گا جس کا خواب دونوں ملکوں کے بانیوں نے دیکھا تھا۔ اب تک دونوں پڑوسی ملک اس احساس میں جیتے رہے ہیں کہ سرحد کے دوسری طرف سے انہیں ایک دشمن ملک کا خطرہ درپیش ہے، اس کے بعد دونوں یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ سرحد کے دوسری طرف ان کا ایک دوست ملک موجود ہے۔ اب تک دونوں ملک محرومی کے احساس میں جی رہے تھے، اس کے بعد دونوں ملک یافت کے احساس میں جینے لگیں گے۔ اب تک دونوں ملک اپنے آپ کو مسائل میں گھرا ہوا سمجھتے تھے، اس کے بعد دونوں ملک یہ محسوس کریں گے کہ وہ کھلے ہوئے مواقع کے درمیان ہیں۔ بظاہر جغرافی اور سیاسی تقسیم کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان ایک برتر انسانی اور تعمیری وحدت قائم ہو جائے گی۔ اور یہ سب کرشمہ ہوگا اس بات کا کہ دونوں نے ون ون سولیوشن کے طریقہ کو اختیار کر لیا۔ حل کی طرف موجودہ حالت میں پاکستان کے لیے جو انتخاب (choice) ہے وہ جمہوری حکومت اور فوجی حکومت کے درمیان نہیں ہے بلکہ حقیقی انتخاب جن دو حالتوں کے درمیان ہے وہ یہ کہ پاکستان کا سفر جس بندگی (impasse) پر آ کر رک گیا ہے وہاں سے وہ اپنے آپ کو نکال کر اپنا سفر دوبارہ شروع کرے یا وہ اسی بندگی میں بدستور پڑا رہے۔ یہاں تک کہ وہ قوموں کے عالمی روڈ میپ سے غیر موجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page