Urdu book · امن عالم

حل کی طرف

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

خود بخود ترقی کرنے لگے گا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان میں’’پہلے صورت موجودہ‘‘ (status quo) کو بدلو‘‘ کے نظریہ کے نتیجہ میں مسلسل طور پر ہنگامی صورت حال باقی ہے۔ وہاں عملی طور پر افراد کے لیے حسبِ حوصلہ کام کے مواقع بہت کم ہو گئے ہیں۔ چنانچہ بیشتر حوصلہ مند اور باصلاحیت افراد پاکستان چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ امریکہ کے سفروں کے دوران میں نے امریکہ میں مقیم بہت سے پاکستانیوں سے پوچھا کہ آپ اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں کیوں آگئے۔ تقریباً سب کا ایک ہی جواب تھا کہ امریکہ میں کام کے مواقع ہیں جب کہ پاکستان میں کام کے مواقع نہیں۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان کی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی پاکستان کے ترقیاتی سیلاب کے لیے بند دروازہ (trap door) بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان موجودہ زمانہ میں ترقیاتی دوڑ میں پچھڑ گیا ہے۔ پاکستان کو اس پچھڑے پن سے نکالنے کی صرف ایک ہی صورت ہے ۔ وہ یہ کہ پاکستان مسائل سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال (avail) کرنے کی پالیسی اختیار کرے۔ موجودہ حالات میں اس کی عملی صورت یہ ہے کہ پاکستانی لیڈر کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ (status quo) کو علیٰ حالہ ماننے پر راضی ہو جائیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کشمیر میں قبضہ کی لائن (LoAC) کو کچھ ضروری ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تسلیم شدہ سرحد قرار دے دیا جائے۔ اس معاملہ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو جغرافیائی اور سیاسی سٹیٹس کو (political status-quo) بن گیا ہے اس کو مان کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے ۔ اپنی اس رائے کو میں 1968 سے برابر پیش کر رہا ہوں۔ مزید یہ کہ اس طرح کا انقلابی فیصلہ صرف ایک غیر جمہوری حکمران ہی کر سکتا ہے۔ کسی جمہوری حکمران کے لیے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن نہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے لیے یہی تاریخی کام مقدر ہے۔ اس معاملہ میں جو لوگ صدر مشرف کے حق اقتدار پر سوال اٹھا رہے ہیں ان کا جواب سابق فوجی صدر محمد ضیاء الحق کی مثال میں موجود ہے۔ اس سے پہلے جنرل محمد ضیاء الحق نے یہی کیا تھا کہ پاکستان کے اقتدار پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page