Urdu book · امن عالم

حل کی طرف

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

فوجی قبضہ کیا۔ اور پھر ایک کارروائی کے ذریعہ اپنے صدر مملکت ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت پاکستان کے اسلام پسندوں سے لے کر امریکہ کے محکمہ خارجہ تک ہر ایک نے اس کو قبول کر لیا اور قانون ضرورت (law of necessity) کے تحت اس کو جائز قرار دیا۔ یہ نظیر کافی ہے کہ صدر پرویز مشرف کو بھی اسی دلیل کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ یہ ایک دہرا کردار ہے کہ جہاں ذاتی انٹرسٹ دکھائی دے وہاں آدمی پریکٹیکل بن جائے اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ نہ ہو وہاں وہ آئیڈیئلزم کی بات کرنے لگے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کا اقتدار سنبھالنا اور پھر 20 جون 2001 کو ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف لینا بظاہر ایک غیر آئینی واقعہ ہے۔ مگر میرے نزدیک وہ ایک بالکل بروقت واقعہ ہے۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کو جو جرات مندانہ فیصلہ لینا ہے وہ صدر پرویز مشرف جیسا فوجی حکمران ہی لے سکتا ہے۔ انتخابات کے ذریعہ بننے والے کسی جمہوری حکمران کے لیے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن نہیں۔ اس مسئلہ کا واحد علاج یہ ہے کہ پاکستان اپنی جذباتی پالیسی کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرے۔ وہ کشمیر کے سوال پر ہندوستان سے سمجھوتہ کر لے تا کہ ملک میں امن کی فضا پیدا ہو اور ملکی ذرائع کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف موڑا جا سکے۔ پچھلے 55 سال سے پاکستان کی سیاست ایک ہی سوال پر مرتکز رہی ہے۔ اور وہ ہے کشمیر میں قائم شدہ سیاسی حالت (political status-quo) کو بدلنا۔ اب آخری طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ پالیسی ایک تباہ کن پالیسی ہے۔ وہ سرے سے کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہی نہیں، نہ ماضی اور حال کے اعتبار سے اور نہ ہی مستقبل کے اعتبار سے۔ مذکورہ قسم کا انقلابی فیصلہ لینا یقینی طور پر ایک مشکل کام ہے۔ لیکن اگر ایک بار ہمت کر کے پاکستان ایسا فیصلہ لےلے تو اس کے معجزاتی نتیجے برآمد ہوں گے۔ انڈیا کے خلاف بلا اعلان جنگ کی حالت ختم ہو کر امن قائم ہو جائے گا۔ پاکستانی قوم کی منفی سوچ مثبت سوچ میں تبدیل ہو جائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page