Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث نمبر 2593) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس حدیث کے مطابق، پر امن طریق کار (peaceful activism) کو متشددانہ طریق عمل (violent activism) کے اوپر واضح فوقیت حاصل ہے۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ ایک سادہ اور معلوم فطری حقیقت ہے۔ جنگ اور تشدد کی صورتِ حال میں یہ ہوتا ہے کہ طرفین کے درمیان نفرت اور عداوت بھڑکتی ہے۔ موجودز رائغ تباہ ہوتے ہیں۔ دونوں طرف کے بہترین افراد قتل کیے جاتے ہیں۔ پورا سماج منفی نفسیات کا جنگل بن جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں تعمیر و استحکام کا کوئی کام نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ و تشدد میں نقصان تو یقینی ہے مگر نقصان کے باوجود اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برعکس امن کا ماحول ہو تو لوگوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ دوستی اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ موافق ماحول کے نتیجہ میں تعمیری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ موجود ذرائع کو ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ لوگ مثبت نفسیات میں جیتے ہیں جس کی بنا پر علمی اور فکری ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ مواقع کار کو مسدود کرتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں امن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ مواقع کار کو آخری حد تک کھول دیتی ہے۔ جنگ سے ہمیشہ مزید نقصان ہوتا ہے، اور امن سے ہمیشہ مزید فائدہ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر قیمت پر اور آخری حد تک جنگ اور ٹکراؤ سے اعراض کی تعلیم دیتا ہے۔ اور امن کو ہر قیمت پر قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایک مغالطہ کی وضاحت قرآن میں بعض آیتیں ایسی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے : اور ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ (191:2)۔ اس طرح کی آیتوں کو لے کر کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام جنگ اور قتال کا مذہب ہے۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس طرح کی آیتیں محدود طور پر صرف ان لوگوں سے متعلق ہیں جنہوں نے اہل اسلام پر یک طرفہ حملہ کر دیا ہو، وہ اسلام کا کوئی عمومی حکم نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page