Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ذریعہ اجتہاد کا عمل جاری رکھنا، مساجد اور مدارس کے ذریعہ اپنے مذہب کی حفاظت، صنعتی اداروں کے ذریعہ مالیات کا حصول، مواصلات کے ذریعہ اپنے مقاصد کی عالمی تنظیم، مختلف قسم کے این جی او (NGOs) کے ذریعہ اپنے مذہبی اور ثقافتی امور کی تنظیم، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ میں جن قوموں نے تبدیلی کے اس راز کو سمجھ لیا ہے وہ بظاہر سیاسی اقتدار کی کرسی پر نہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کی کامیابیاں حاصل کیے ہوئے ہیں۔ کسی گروہ نے ملک کے اندر اپنا تعلیمی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے صنعتی ایمپائر۔ کسی نے اپنا اشاعتی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے مواصلاتی ایمپائر۔ کسی نے اپنا مالیاتی ایمپائر بنایا ہے اور کسی نے معالجاتی ایمپائر۔ اس غیر ریاستی ایمپائر کی آخری مثال کمپیوٹر ایمپائر ہے جس نے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین اقوامی سطح پر پورے نظام زندگی کو اپنے کنٹرول میں لے سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی آیت (وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ) کا ایک اہم پہلو یہی زمانی تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی نے سیاسی اقتدار کو گھٹا کر اب اس کو صرف ایک قسم کا سیاسی درد سر (political headache) بنا دیا ہے۔ اب اہل اسلام کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے جنگ کریں۔ سیاسی اقتدار، خواہ جس کسی کے قبضہ میں ہو، وہ ہر حال میں ایسا کر سکتے ہیں کہ غیر سیاسی ادارے قائم کرکے اپنے تمام مطلوب فائدے حاصل کر لیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل اسلام سیاست سے دست بردار ہو جائیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اداروں اور تنظیموں کے ذریعہ ملنے والے فوائد کو حاصل کرتے ہوئے وہ محدود دائرہ میں پُر امن سیاسی عمل کا طریقہ اپنائیں۔ وہ سیاسی ہنگامہ آرائی سے مکمل پر ہیز کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنا خاموش سیاسی سفر جاری رکھیں، یہاں تک کہ اللہ ان کے لیے وہ مواقع کھول دے جو انہیں سیاست کے ادارہ تک بھی پہنچادے۔ امن کی طاقت حدیث میں آیا ہے : إِنَّ اللَّهَ يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page