امن عالم
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
اور انتخاب (option) موجودگی نہ تھا۔ اس لیے آپ نے وقتی طور پر ان سے دفاعی جنگ کی۔ یہی وہ حالات تھے جن کے پیش آنے پر قرآن میں جنگ کے استثنائی احکام اترے۔ یہ احکام یقینی طور پر وقتی نوعیت کے تھے، نہ کہ ابدی نوعیت کے۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبرِ اسلام کی مستقل حیثیت کو رحمت للعالمین (21:107) سے تعبیر کیا گیا۔ یعنی سارے عالم کے لیے رحمت۔ اسلام میں ٹیریرزم نہیں اسلام کے مطابق، ٹیریرزم (دہشت گردی) کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ ٹیریرزم سادہ طور پر، غیر ریاستی تشدد کا دوسرا نام ہے۔ تشدد کے ذریعہ کسی مقصد کا حصول، بوقت ضرورت، صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کے لیے درست ہے۔ غیر حکومتی افراد یا جماعتوں کے لیے کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ اختیار کرنا درست نہیں۔ اگر کسی شخص یا گروہ کو کوئی شکایت ہو تو اس کے لیے جائز طور پر صرف دو صورتیں ممکن ہیں۔ یا تو وہ پرامن حدود میں رہ کر اپنی شکایت کا حل تلاش کرے، یا وہ اپنے معاملہ کو عدالت اور حکومت کے سپرد کر دے تا کہ وہ قانون کے مطابق، دخل دے کر اس کے معاملہ کو حل کریں۔ آج کل میڈیا میں اکثر اسلامک ٹیریرزم (اسلامی دہشت گردی) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ بلاشبہ غلط ہے۔ اسلام کو ٹیریرزم کے ساتھ کوئی نسبت نہیں۔ تاہم اس معاملہ میں اصل ذمہ دار میڈیا نہیں ہے بلکہ وہ مسلمان ہیں جو میڈیا کو موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کے عمل کو اس قسم کے عنوان کے ساتھ رپورٹ کرے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان مختلف مقامات پر غیر حکومتی جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ یہ تمام جنگیں یقینی طور پر ملک و مال کے لیے یا مسلم قومی مفاد کے لیے ہیں۔ مگر جو مسلمان اس قسم کی متشددانہ تحریکیں چلا رہے ہیں وہ ان کو اسلامی جہاد کا نام دیتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ میڈیا کا کام تجزیہ کرنا نہیں ہے بلکہ رپورٹ کرنا ہے۔ چنانچہ میڈیا مسلمانوں کے اس قسم کے متشددانہ عمل کو اسی طرح اسلام کے ساتھ منسوب کر دیتا ہے جس طرح خود مسلمان ان کو اسلام کے ساتھ منسوب کیے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader