اسلام میں ٹیررزم نہیں
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں ۔ ظاہر ہے کہ مسلمان جب اپنے تشدد کو اسلام کا عنوان دیں تو میڈیا بھی اپنی رپورٹنگ میں اس کو اسلام ہی کا عنوان دے گا، نہ کہ کسی اور چیز کا۔ مسلمانوں کی اس روش نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو بہت زیادہ بدنام کیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں اسلام کی تصویر خلاف واقعہ طور پر یہ بن گئی ہے کہ اسلام نفرت اور تشدد کا مذہب ہے، نہ کہ امن اور انسانیت کا مذہب۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہوئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (1 اکتوبر 2001) میں مسٹر امولیہ گنگولی کا مضمون اسلام کی تصویر (Image of Islam) ۔ اسی طرح لندن کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع شدہ مضمون جس کا عنوان یہ ہے ۔ ایک مذہب جو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے : A religion that sanctions violence. اسلام کو اس بدنامی سے بچانے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنی قومی لڑائیوں کو اسلام کا عنوان دینا چھوڑ دیں۔ اس معاملہ میں وہ جو کچھ کریں ان کو اپنی قوم کی طرف منسوب کریں، نہ کہ اسلام کی طرف۔ تاکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ان کا قومی عمل سمجھا جائے، نہ کہ اسلامی اور دینی عمل۔ ط

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader