جہاد کا تصور اسلام میں
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
کولے کران کے خلاف دعوت و تبلیغ کا عمل کرو اور اس عمل میں اپنی آخری کوشش صرف کرو۔ اس آیت میں جہاد سے مراد کوئی عسکری عمل نہیں ہے بلکہ اس سے مراد تمام ترفکری اور نظریاتی عمل ہے۔ اس عمل کو ایک لفظ میں ابطال باطل اور احقاق حق کہا جا سکتا ہے۔ جہاد بمعنی قتال بھی اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے پرامن جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ دشمن کی طرف سے اگر فوجی اور عسکری چیلنج دیا جائے تب بھی اولاً ساری کوشش اس بات کی کی جائے گی کہ اس کا جواب پرامن طریقہ سے دیا جائے ۔ پرامن طریقہ کو صرف اُس وقت ترک کیا جائے گا جب کہ اس کو استعمال کرنا ممکن ہی نہ ہو، جب کہ قتال کے جواب میں قتال ہی واحد ممکن انتخاب کی صورت اختیار کر لے۔ اس معاملہ میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہمارے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا: ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3560؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327 ؛ ابوداؤد، حدیث نمبر 4785؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1984 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 24549) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کسی معاملہ میں دو امکانی انتخاب ہوتا، ایک آسان انتخاب (easier option) اور دوسرا مشکل انتخاب (harder option) تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب کو چھوڑ دیتے اور جو آسان ہوتا اس کو اختیار فرما لیتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کا تعلق زندگی کے صرف عام معاملات سے نہ تھا بلکہ جنگ جیسے سنگین معاملہ سے بھی تھا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشکل انتخاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے کبھی خود اپنی طرف سے جنگ کا اقدام نہیں کیا۔ اور جب آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی گئی تو آپ نے ہمیشہ اعراض کی کوئی تدبیر اختیار کر کے جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی۔ آپ صرف اُس وقت جنگ میں شریک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader