Urdu book · امن عالم

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

بہت سی روایتیں آتی ہیں۔ مثلاً مسند امام احمد کی چند روایات یہ ہیں : المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ لِلَّهِ ( مسند احمد، حدیث نمبر 23951) المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ( مسند احمد، حدیث نمبر 23965) المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ( مسند احمد، حدیث نمبر 23958) موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں کا پورا ماحول اس طرح بنایا گیا ہے کہ آدمی مسلسل طور پر آزمائش کے حالات سے گزرتا رہے۔ ان آزمائشی مواقع پر آدمی کو طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا پیش آتا ہے۔ مثلاً ایک حق اس کے سامنے آئے مگر اس کا اعتراف کرنے میں اپنا درجہ نیچا ہوتا ہوا دکھائی دے، کسی کا مال آدمی کے قبضہ میں ہو اور اس کو حقدار کی طرف واپس کرنے میں اپنا نقصان نظر آتا ہو، تواضع کی مطلوب زندگی گزارنے میں اپنے نفس پر جبر کرنا پڑے، غصہ اور انتقام کے جذبات کو برداشت کرنا اپنی نفی کے ہم معنی بن گیا ہو، انصاف کی بات بولنے میں یہ اندیشہ ہو کہ لوگوں کے درمیان مقبولیت ختم ہو جائے گی، خود غرضانہ کردار کے بجائے با اصول کردار اختیار کرنے میں سہولیات سے محرومی نظر آتی ہو، وغیرہ۔ اس طرح کے مختلف مواقع پر بار بار آدمی کو اپنی خواہش کو دبانا پڑتا ہے۔ اپنی نفسیات کی قربانی دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اپنی انا کو ذبح کرنا پڑے گا۔ اس طرح کے تمام مواقع پر ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اور ہر نقصان کو جھیلتے ہوئے حق پر قائم رہنا یہی اصلی اور ابتدائی جہاد ہے۔ جو لوگ اس جہاد پر قائم رہیں وہی آخرت میں جنت کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔ جہاد اصلاً پرامن جدوجہد کا عمل ہے۔ اسی پرامن جدوجہد کی ایک صورت وہ ہے جس کو دعوت و تبلیغ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) یعنی منکرین کی اطاعت نہ کرو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل باطل جو بات ان سے منوانا چاہتے ہیں اس کو ہرگز نہ مانو۔ بلکہ قرآن کی تعلیمات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page