Urdu book · امن عالم

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

جاں نثار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ یقینی طور پر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال طاقت کے بجائے مظاہرۂ طاقت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ دس ہزار افراد کی اس فوج کو لے کر اعلان کے ساتھ نکلیں اور قریش سے جنگی تصادم کرکے مکہ پر قبضہ حاصل کریں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کامل رازداری کے ساتھ سفر کی تیاری کی اور اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے۔ آپ کا یہ داخلہ اتنا اچانک تھا کہ قریش آپ کے خلاف کوئی تیاری نہ کر سکے اور مکہ کسی خونی تصادم کے بغیر فتح ہو گیا ــ یہ بھی پرتشدد طریقہ کار کے مقابلہ میں پرامن طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ ان چند مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف عام حالات میں بلکہ انتہائی ہنگامی حالات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے مقابلہ میں امن کے اصول کو اختیار فرمایا۔ آپ کی تمام کامیابیاں اسی سنتِ امن کی عملی مثالیں ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں امن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف مجبوارانہ استثنا کی۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر یہ دیکھیے کہ موجودہ زمانہ میں صورت حال کیا ہے۔ اس معاملہ میں جدید دور قدیم دور سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ قدیم زمانہ میں پرتشدد طریقہ کار ایک عام رواج کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور امن کا طریقہ اختیار کرنا بے حد مشکل کام تھا۔ مگر اب صورت حال یکسر طور پر بدل گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں پرتشدد طریقہ کار آخری حد تک غیر مطلوب اور غیر محمود بن چکا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پرامن طریقہ کار کو واحد پسندیدہ طریقہ کار کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں پرامن طریقہ کار کو ایسی فکری اور عملی تائیدات حاصل ہو گئی ہیں جنہوں نے پرامن طریقہ کار کو بذات خود ایک انتہائی طاقتور طریقہ کار کی حیثیت دے دی ہے۔ ان جدید تائیدات میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ مثلاً اظہارِ رائے کی آزادی کا حق، جدید کمیونی کیشن کے ذریعہ اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے امکانات، میڈیا کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا، وغیرہ۔ ان جدید تبدیلیوں نے پرامن طریقہ کار کو بیک وقت مقبول طریقہ کار بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page