Urdu book · امن عالم

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

بنا دیا ہے اور اسی کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقہ کار بھی۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ جب پر امن طریقہ کار عملاً دستیاب (available) ہو تو اسلامی جدوجہد میں صرف اسی کو اختیار کیا جائے گا، اور پر تشدد جدوجہد کو ترک کر دیا جائے گا۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پر امن طریقہ کار نہ صرف مستقل طور پر دستیاب ہے، بلکہ مختلف تائیدی عوامل (supporting factors) کی بنا پر وہ بہت زیادہ مؤثر حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں پر تشدد طریقہ کار مشکل ہونے کے ساتھ عملاً بالکل غیر مفید ہے، اس کے مقابلے میں پر امن طریقہ کار آسان ہونے کے ساتھ انتہائی مؤثر اور نتیجہ خیز ہے۔ اب پر امن طریقہ کار کی حیثیت دو امکانی انتخابات (possible options) میں سے صرف ایک انتخاب کی نہیں ہے بلکہ وہی واحد ممکن اور نتیجہ خیز انتخاب ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اب پر تشدد طریقہ کار عملاً متروک قرار پا چکا ہے، یعنی وہی چیز جس کو شرعی زبان میں منسوخ کہا جاتا ہے۔ اب اہل اسلام کے لیے عملی طور پر ایک ہی طریقہ کار کا انتخاب باقی رہ گیا ہے، اور وہ بلاشبہ پر امن طریقہ کار ہے، الا یہ کہ صورت حال میں ایسی تبدیلی پیدا ہو جو دوبارہ حکم کو بدل دے۔ یہ صحیح ہے کہ پچھلے زمانہ میں بعض اوقات پر تشدد طریقہ کار کو اختیار کیا گیا مگر اس کی حیثیت زمانی اسباب کی بنا پر صرف ایک مجبورانہ انتخاب کی تھی۔ اب جب کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں یہ مجبوری باقی نہیں رہی تو پر تشدد طریقہ کار کو اختیار کرنا بھی غیر ضروری اور غیر مسنون قرار پا گیا۔ اب نئے حالات میں صرف پر امن طریقہ کار کا انتخاب کیا جائے گا۔ جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے، جہاد کے معاملہ میں امن کی حیثیت عموم کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف ایک نادر الوقوع استثنا کی۔ موجودہ زمانہ میں اس معاملہ کی ایک سبق آموز مثال ہندوستانی لیڈر مہاتما گاندھی (وفات 1948) کی زندگی میں ملتی ہے۔ اسی زمانی تبدیلی کی بنا پر مہاتما گاندھی کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ہندوستان میں ایک مکمل قسم کی سیاسی لڑائی لڑیں اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں۔ اور یہ سب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page