موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
خود سے اس کے خلاف کارروائی شروع نہ کرو بلکہ اس کو اولوالامر ( ارباب حکومت) کی طرف لوٹاؤ، تا کہ وہ معاملہ کی صحیح نوعیت کو سمجھیں اور اس کے بارے میں صحیح اور ضروری اقدام کریں ( النساء 83)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ خوف ( جنگی صورت حال ) پیش آنے کی صورت میں عوام کے لیے خود سے اقدام کرنا جائز نہیں۔ وہ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ معاملہ کو حاکم کے حوالہ کر دیں اور حاکم کی طرف سے جو اقدام کیا جائے اس میں اس کا ساتھ دیں۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے : انما الامام جنة، يقاتل من ورائه ويتقى به ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 2957) یعنی بلاشبہ امام ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ حفاظت حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنگی دفاع ہمیشہ حاکم کی قیادت میں کیا جائے گا۔ عام مسلمانوں کا فرض صرف یہ ہوگا کہ وہ اپنے حاکم کی اتباع کریں اور اس کا ساتھ دے کر حکومت کے منصوبہ کو کامیاب بنائیں۔ فقہ میں یہ مسئلہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے جس میں غالباً کسی قابل ذکر عالم کا اختلاف نہیں۔ چنانچہ فقہاء کے متفقہ مسلک کے مطابق، جنگ کا اعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے، غیر حکومتی عوام کو اس قسم کا اعلان کرنے کا حق نہیں۔ اسی لیے فقہ میں یہ مسئلہ ہے کہ: الرحیل للإمام ( جنگ کا اعلان کرنا صرف حاکم کا وقت کا کام ہے )۔ اصل یہ ہے کہ جنگ ایک انتہائی منظم عمل کا نام ہے۔ اس قسم کا منظم عمل صرف با اختیار حکومت ہی کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی اقدام صرف حکومت کے لیے جائز ہے، عوام کے لیے جنگی اقدام کرنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر مسلمان جہاد کے نام پر حکومتوں سے پُر تشدد ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ مگر تقریباً بلا استثناء ان میں سے ہر ایک کی حیثیت فساد کی ہے، نہ کہ اسلامی جہاد کی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اُن میں سے کوئی بھی ’جہاد‘ کسی حکومت کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں ان میں سے ہر ایک جہاد غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کی طرف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader