Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ شروع سے آخر تک عدم تشدد کا طریقہ (non-violent method) اور پر امن عمل (peaceful activism) کے اصول کو اختیار کر کے انجام پایا۔ فقہ کا یہ ایک معلوم اصول ہے کہ: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان (دیکھیے ابن قیم الجوزیۂ، اغاثۃ اللہفان، جلد 1، ص 330) یعنی زمانہ اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ اس مسلّمہ فقہی اصول کا تقاضا ہے کہ جب زمانی حالات بدل چکے ہوں تو شرعی احکام کا از سرِ نو انطباق (re-application) تلاش کیا جائے، تا کہ شرعی حکم کو زمانی حالات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس فقہی اصول کا تعلق جس طرح دوسرے معاملات سے ہے اسی طرح یقینی طور پر اس کا تعلق جنگ کے معاملہ سے بھی ہے۔ اس اصول کا بھی یہ تقاضا ہے کہ پر تشدد طریقِ کار کو اب عملاً متروک قرار دیا جائے اور صرف پُرامن طریقِ کار کو شرعی جواز کا درجہ دیا جائے۔ موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد کے نام سے بہت سے ملکوں کے مسلمان مسلّح جہاد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ مگر کوئی تحریک محض اس بنا پر جہاد کی تحریک نہیں ہو سکتی کہ اس کے علَم برداروں نے اس کو جہاد کا نام دے دیا ہو۔ کوئی عمل صرف اس وقت اسلامی جہاد قرار پاتا ہے جب کہ وہ اسلام کی مقرّر کی ہوئی شرطوں پر پورا اترے۔ جہاد کی شرطوں کی تکمیل کے بغیر جو جہاد کیا جائے وہ عملاً جہاد نہیں ہوگا بلکہ فساد ہوگا۔ جو لوگ اس کام میں مشغول ہوں وہ اپنے اس کام پر جہاد کا انعام نہیں پائیں گے بلکہ اللہ کی طرف سے وہ صرف سزا کے مستحق ہوں گے۔ جہاد بمعنی قتال کی شرطیں کیا کیا ہیں، اس کو میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں ۔ یہاں صرف ایک بات کا اظہار کرنا ضروری ہے ۔ وہ یہ کہ جہاد بمعنی قتال کی حیثیت نماز روزہ جیسے انفرادی عمل کی نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق مکمل طور پر ریاست سے ہے۔ جہاد (معنی قتال) کی یہ اصولی حیثیت قرآن و حدیث کی مختلف نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے خوف کی صورت پیدا ہو تو اس کو لے کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page