Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ ایک حیوانی فعل ہے، جنگ کوئی انسانی فعل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے ابدی قانون کے مطابق ، امن ایک عموم (rule) ہے، اور جنگ صرف ایک استثناء (exception)۔ امن ہر حال میں ایک قابل اختیار چیز ہے، جب کہ جنگ شدید ضرورت کے وقت اپنے بچاؤ کے لیے اختیار کی جاتی ہے، وہ بھی اُس وقت جب کہ ٹکراؤ سے اعراض کی تمام پرامن تدبیریں ناکام ہو گئی ہوں۔ صبر کا طریقہ حمایت یافتہ طریقہ قرآن کی سورہ الانفال میں کہا گیا ہے کہ : وَاِصْبِرُوا اِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (8:46) یعنی تم لوگ صبر کی روش اختیار کرو، بیشک اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر کی روش اختیار کریں۔ صابرانہ طریقہ کار کو دوسرے لفظوں میں پرامن طریقہ کار کہا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ کار متشددانہ طریقہ کار ہے۔ مذکورہ آیت فطرت کے اس قانون کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں جو لوگ پر امن طریقہ کار اختیار کریں اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے تمام اسباب اُن کی حمایت میں مستعد ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس، جو لوگ متشددانہ طریقہ کار اختیار کریں وہ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہو جاتے ہیں ، اور جو لوگ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہو جائیں اُن کے لیے خدا کی اس دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ صبر کے طریقہ کا مطلب کیا ہے۔ صبر کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ناخوش گوار باتوں پر اپنی برداشت نہ کھوئے ۔ تاکہ اس کی مثبت سوچ درہم برہم نہ ہونے پائے۔ وہ ممکن اور ناممکن میں فرق کرے اور ممکن کو اپنا نقطہ آغاز بنائے ۔ وہ اچانک انجام کا خواہشمند نہ ہو بلکہ تدرج کا انداز اختیار کرے ۔ وہ نقصان پر مایوس نہ ہو بلکہ مستقبل کے پیش نظر اپنا عمل جاری رکھے ۔ جو کچھ آج ملنے والا ہے اُس کو وہ آج حاصل کرے اور جو کچھ کل ملنے والا ہے اُس کے لیے وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے ۔ وہ اپنی خواہش کو فطرت کے قانون کے ماتحت رکھے ، نہ کہ فطرت کے قانون کو اپنی خواہش کے ماتحت بنانے کی کوشش کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر مکمل طور پر ایک مثبت عمل ہے، صبر کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page